یورپ کے عملی اقدامات غیرموثر ہوئے تو جوہری معاہدے سے الگ ہوں گے: ظریف

تہران، 30 ستمبر، ارنا – ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اگر جوہری معاہدے کے تحفظ کے لئے یورپ کے عملی اقدامات ناکافی اور ناقص ہوئے تو اس عالمی معاہدے سے الگ ہوں گے.

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، یہ بات "محمد جواد ظریف" نے اتوار کے روز نیویارک میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران امریکہ کی جانب سے تیل کی فروخت کی پابندیوں سے مقابلہ کرنے کے لئے ڈالر کی بجائے دوسری کرنسیوں کے ذریعہ تیل کی فروخت اور عالمی معاملات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اہم میکانیزم ڈالر کو ہٹانا ہے.
ظریف نے کہا کہ بعض ممالک ایران کے ساتھ دوطرفہ معاملات میں مشترکہ کرنسیوں کے استعمال سے متعلق معاہدوں پر دستخط کر رہے ہیں جس کے تحت کسی بھی ملک ڈالر کے بغیر اپنے قومی پیسہ کے ساتھ مصنوعات کی خرید و فروخت کرسکتا ہے اور یہ بالکل مفید ہے۔
انہوں نے جوہری معاہدے سے ایران کی علیحدگی کے ساتھ اس ملک کے خلاف ممکنہ فوجی حملے کے سوال کے جواب میں کہا کہ اگر امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل ہونے کا یقین تھا تو ضرور ایسا ہی کر دیتا تھا.
تفصیلات کے مطابق، یورپی ممالک نے عالمی جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کی درآمدات اور برآمدات کی سہولیات کے لئے مناسب عملی اقدامات اٹھانے پر فیصلہ کیا ہے.
9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے.IrnaUrdu@