بصرہ اور پیرس میں ایرانی سفارتی مشن پر حملوں میں کوئی مماثلت نہیں: ترجمان

تہران، 17 ستمبر، ارنا - ایرانی دفترخارجہ کے ترجمان نے یہ واضح کردیا ہے کہ بصرہ میں ایرانی قونصل خانے اور پیرس میں سفارتخانے پر ہونے والے حملوں کے واقعات میں کوئی مماثلت نہیں ہے.

'بہرام قاسمی' نے پیر کے روز تہران میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ بصرہ اور پیرس کے واقعات کے درمیان کوئی لنک نہیں اور ایران نے ان حملوں سے متعلق الگ الگ مؤقف کا اعلان کیا تھا.
انہوں نے کہا کہ بصرہ میں ایرانی قونصل خانے پر حملہ کرنے والے عناصر شاید کسی غیرعلاقائی ملک سے وابستگی رکھتے تھے جن کا یہ مقصد تھا کہ عراق کی حالیہ حساس صورتحال میں ایران عراق تعلقات کو متاثر کریں تاہم دونوں ممالک کے تعلقات اتنے مضبوط ہیں جو ایسی سازشوں سےمتاثر نہیں ہونے والے.
قاسمی نے مزید کہا کہ پیرس میں رونما ہونے والے واقعہ ایرانی سفارتخانے پر دہشتگرد تنظیم کے عناصر دھاوا بولنا تھا جس میں وہ ناکام رہے.
انہوں نے کہا کہ یہ دونوں الگ الگ واقعات ہیں جن کے درمیان کوئی مماثلت نہیں.
ایران جوہری معاہدہ اور یورپی یونین کے اقدامات سے متعلق انہوں نے کہا کہ ایران اور یورپ کے درمیان رابطے جاری ہیں اور تقریبا ہم درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں.
بہرام قاسمی نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایران اور گروپ 4+1 کے وزرائے خارجہ کی نشست منعقد ہوگی جس کی مدد سے ہم اس مسئلے کو مزید سنجیدگی سے حل کرسکتے ہیں.
انہوں نے ایران کے چین اور بھارت کے ساتھ تعلقات سے متعلق کہا کہ چین اور بھارت ہمارے اہم دوست ممالک اور تجارتی پارٹنرز ہیں اور ان ممالک میں نئے ایرانی سفیروں کی تعیناتی جلد کی جائے گی.
274**
ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@