ایران اور پاکستان سرحدوں پہ درپیش خطرات سے مشترکہ طور پر نمٹیں: جنرل سلامی

تہران، 30 جون، ارنا - ایرانی پاسداران انقلاب فورس کے اعلی کمانڈر نے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان کو چاہئے کہ سرحدوں پہ درپیش مشترکہ خطرات سے مل کر نمٹیں.

یہ بات پاسدران انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر بریگیڈیر جنرل ''حسین سلامی'' نے ہفتہ کے روز ایران کے دورے پر آئے ہوئے پاکستان آرمی کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ''بلال اکبر'' کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاک ایران سرحدوں پر مشترکہ خطرات سے نمٹنا ضروری ہے اور اس کے علاوہ دونوں ممالک کو چاہئے کہ علاقائی چیلنجز سے بھی نمٹنے کے لئے مشترکہ محاذ تشکیل دے جس کے ذریعے ہم آہنگی کی بنیاد پر اقدامات اٹھائے جائیں.

برادر اور دوست ملک پاکستان سے آئے ہوئے معزز مہمان کے دورے پر اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے جنرل سلامی نے مزید کہا کہ پاک ایران تعلقات کی تاریخ روشن ہے اور دونوں برادر ملک نے مشکل حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے.

انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان اسٹریٹجک لحاظ سے ایک دوسرے کے لئے اہم ہیں. ایرانی عوام بالخصوص سپریم لیڈر پاکستانی عوام سے دلی محبت کرتے ہیں.

بریگیڈیر جنرل حسین سلامی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور پاکستان کے پاس غیرمعمولی صلاحتیں ہیں جن سے ہم دفاع اور عسکری شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دے سکتے ہیں.

انہوں نے یمن مخالف اتحاد میں شامل نہ ہونے پر پاکستان کی سنجیدگی اور بہادری کو سراہا اور مشترکہ سرحدوں پر خصوصی توجہ دینے پر پاکستانی فوج کا بھی شکریہ ادا کیا.

پاسداران انقلاب فورس کے نائب کمانڈر نے کہا کہ آج ہم خطے میں جو مشکلات اور مصائب دیکھ رہے ہیں اس کی اصل وجہ امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست ہیں. امریکہ اور اسرائیل مغربی ایشیائی خطے میں اپنی سازشوں کی ناکامی کے بعد اسلامی ممالک کو کمزور کرنے کے لئے دہشتگردوں اور انتہاپسند عناصر کی تربیت کررہے ہیں.

انہوں نے پاک ایران سرحدوں کی سلامتی کو برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تکفیری عناصر کا قلع قمع کرنا اور سلامتی کے خلاف کام کرنے والوں سے نمٹنا دونوں ممالک کی اہم ترجیح ہونی چاہئے لہذا اس مقصد کے لئے ایرانی پاسداران انقلاب اپنے تجربات کو پاکستانی فوج اور عوام کے ساتھ تبادلہ کرنے کے تیار ہے.

جنرل سلامی نے اس بات پر زور دیا کہ دفاعی اور سیکورٹی کے شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ سے مشترکہ خطرات کو ٹالنے میں مدد ملے گی.

اس ملاقات میں لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر نے دورہ ایران اور فوج اور پاسداران انقلاب کے کمانڈروں سے اپنی ملاقاتوں پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سرحدوں پر مشترکہ خطرات کا سامنا ہے لہذا باہمی مفادات کے تحفظ کے لئے ایران اور پاکستانی افواج کو مل کر ان سے نمٹنا ہے.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان آرمی کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر ایرانی پاسداران انقلاب کی بری فورس کے کمانڈر بریگیڈیر جنرل ''محمد پاکپور'' کی دعوت پر گزشتہ جمعہ کے روز ایران کے دورے پر پہنچے ہیں.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال نومبر میں پاکستانی آرمی چیف جنرل ''قمر جاوید باجوہ'' نے اسلامی جمہوریہ ایران کا اہم دورہ کیا تھا.

اس کے علاوہ فروری میں اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائیہ کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل ''حسن شاہ صفی'' نے بھی ایک اعلی سطحی وفد کی قیادت میں پاکستان کا دورہ کیا.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@