سرحدپار خطرات، روحانی کے بیانات اہم سنگ میل، بقلم سید ضیاء ہاشمی

تہران، 1 جولائی، ارنا - صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے گزشتہ دنوں ملک کے اعلی حکام کے ساتھ ایک ملاقات میں حکم دیا کہ حالیہ رونما ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لئے موثر اقدامات اٹھائے جائیں اور قومی صلاحیت سے اندرونی اور بیرونی مسائل کو حل کیا جائے.

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے گزشتہ دنوں اعلی حکومتی افسروں کے ساتھ ملاقات میں اہم باتیں کیں جنہیں ہم ان کی پانچ سالہ حکومتی کارکردگی کا اہم سنگ میل سمجھتے ہیں.

ڈاکٹر روحانی نے حکام اور افسروں کو حکم دیا کہ وہ اجتماعی تعاون کے ذریعے حالیہ رونما ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لئے جامع منصوبندی کریں اور بیرونی اور اندرونی دباؤ کے بے اثر کرنے کے لئے قومی صلاحیت اور وسائل کو بروئے کار لائیں.

حالیہ مہینوں میں ایران کی سیاسی اور اقتصادی صورتحال متاثر ہونے کی اصل وجہ جوہری معاہدے سے امریکہ علیحدگی ہے جس کے بعد امریکہ نے ایران کے بین الاقوامی سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو بھی متاثر کرنے کے لئے دھمکی دے دی.

گزشتہ 40 سال میں اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشمکش کی فضا قائم رہی اور دونوں ممالک کے درمیان اونچ نیچ دیکھنے میں آئی اور آج بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری معاہدے کے خلاف اپنی ٹیم کو مکمل تیار کیا ہوا ہے جس سے ایران امریکہ تناؤ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے.

ٹرمپ انتظامیہ سے منسلک ٹیم جس نے پہلے بھی خارجہ پالیسی میں انتہاپسندانہ رویہ اختیار کیا ہوا تھا اب بھی ایران سمیت دیگر خودمختار ممالک کے خلاف یکطرفہ پالیسی اور اقدامات اٹھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی.

مثال کے طور پر پابندیوں میں اضافہ، ایران پر دباؤ بڑھانے اور باہمی اقتصادی تعلقات کو محدود کرنے کے مقصد سے ٹرمپ ٹیم کے مختلف ممالک کے دورے، ایران کے خلاف ہم خیال میڈیا کو اکسانا اور براہ راست ایران کو امریکہ کے مقابلہ کرنے میں دیکھانا، ان اقدامات میں سے ہیں جس سے امریکہ کی یکطرفہ پالیسی نظر آتی ہے.

اہم بات ہے کہ امریکی صدر نے جارحانہ مؤقف اپنا کر ایران کو اپنے لئے انا کا مسئلہ بنادیا لہذا وہ سمجھتا ہے کہ اگر وہ اس حوالے سے کامیاب نہ ہوا تو امریکی خارجہ پالیسی کو تاریخ کی بدترین شکست ملے گی.

لہذا اس تجزئے کے مطابق، صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی کے حالیہ بیانات کو قومی عزم و ارادہ کی عکاسی سمجھا جائے گا جن کی باتوں کا اصل مقصد قومی اتحاد، یکجہتی اور خطرات کے خلاف موثر اقدامات اٹھانا ہے.

در حقیقت ایرانی صدر کی باتیں اہم سنگ میل ہیں جس سے سرحدپار خطرات کو ٹالنے اور انھی خطرات کو ایک اہم سنہری موقعوں میں تبدیل کرکے ملک کو مضبوط بنانا چاہئے. تاہم ان مقاصد کو پانے کے لئے ایسے اقدامات اور اصلاحات کی ضرورت ہے جن کی بدولت رائے عامہ کے اعتماد اور اجتماعی تعاون کے لئے سازگار ماحول فراہم ہو اور ان اقدامات میں سنجیدہ جد و جہد، کاردگی پر جوابدہ ہونا، ملکی میڈیا کو ترجیح قرار دینا ہے.

ملک میں رائے عامہ کی ملکی میڈیا بالخصوص سرکاری ذرائع ابلاغ عامہ سے یہ توقع ہے کہ وہ عوام اور حکومت کے درمیان تعلقات کو مضبوط کریں اور یہ مقصد ملکی میڈیا کو ترجیح دئے بغیر حاصل نہیں ہوگا.

بقلم: سربراہ ارنا نیوز ایجنسی سید ضیاء ہاشمی

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@