پاکستان میں فارسی کا چینی اور کوریائی زبانوں کے ساتھ تقابل

اسلام آباد، 26 جون، ارنا - آج کل پاکستان کے مختلف تعلیمی مراکز میں چینی اور کوریائی زبانوں کو سیکھنے کا رواج بڑھ رہا ہے جبکہ فارسی گزشتہ کئی صدیوں سے یہاں سیکھی اور پڑھی جاتی تھی اور جس کی جڑیں اب بھی پاکستان کی تاریخ اور ثقافت سے جڑی ہوئی ہیں.

فارسی، پاکستان کا قومی ورثہ ہے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اور نا ٹوٹنے والا پُل ہے.

پاکستانی عوام اپنی قومی زبان اردو میں بات تو کرتے ہیں مگر وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ فارسی، اردو زبان کی ماں ہے جو صدیوں سے برصغیر میں رائج رہی ہے.

فارسی قریب ایک ہزار سال سے پاکستان سمیت برصغیر کے پورے خطے کی سرکاری زبان رہی ہے. برطانیہ نے 18ویں صدی میں فارسی کو سرکاری زبان کے درجے سے ہٹا کر انگریزی کو مسلط کردیا.

اس کے باوجود فارسی کو اردو ادب اور شاعری سے الگ نہیں کیا جاسکتا بلکہ فارسی کو اردو کی ماں سمجھا جاتا ہے کیونکہ اردو میں اکثریت فارسی الفاظ کی ہے یہاں تک کہ پاکستان کا قومی ترانہ بھی فارسی میں لکھا گیا ہے.

محسن پاکستان اور نامور قومی شاعر علامہ محمد اقبال کی تقریبا 70 فیصد شاعری فارسی میں ہے.

برصغیر میں برطانوی راج کے خاتمے اور پاک بھارت ریاستوں کے قیام کے بعد فارسی کو 1985 تک عربی اور دیگر مضامین کے ساتھ پاکستان کے تمام اسکولوں اور کالجز میں پڑھایا جاتا تھا.

پاکستان کے سابق فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق کے دور تک فارسی کو آٹھویں کلاس تک پڑھایا جاتا تھا مگر آج نہ صرف فارسی کو تعلیمی اداروں میں نظرانداز کیا گیا ہے بلکہ اردو زبان بھی فراموشی کی طرف جارہی ہے.

پاکستان میں فارسی زبان کے ماہرین کا خیال ہے کہ جو اردو آج عوام یہاں استعمال کررہے ہیں وہ بیشتر انگریزی الفاظ سے بھری ہوئی جس کی وجہ سے اردو زوال پذیر ہورہی ہے.

پاکستان میں ایک دور ایسا بھی تھا کہ فارسی کو سیکھنا یا پڑھنا فخر کی علامت سمجھات جاتا تھا، علما، دانشور اور ادبی عمائدین بھی فارسی پر اچھی گرفت رکھتے تھے، جمعہ کے خطبوں میں شیخ سعدی، شیخ فردوسی اور مولانا رومی کے اشعار پڑھے جاتے تھے، فارسی تمام کالجز اور جامعات میں پڑھی جاتی تھی مگر آج صورتحال اس کے برعکس ہے اور فارسی کی وہ مانگ نہیں رہی جو برسوں پہلے تھی.

اس حوالے سے پاکستان کی نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (NUML) کے فارسی شعبے کے ایرانی پروفیسر ''علی رضا شاد آرام'' نے ارنا نیوز ایجنسی کے نمائندے کو خصوصی انٹریو دیتے ہوئے اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا.

ان کے مطابق، نمل یونیورسٹی میں اس وقت فارسی شعبے میں 60 طالب علم موجود ہیں جبکہ چینی شعبے میں 500 اور کوریائی زبان کے شعبے میں 200 سیکھنے والے شریک ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ روزگار کے مواقع کی خاطر لوگ چینی اور کوریائی زبان سیکھنے میں راغب ہیں کیونکہ آج مارکیٹ میں چاہئے پاکستان میں ہو یا بیرون ملک چینی اور کوریائی مصنوعات اور تجارت کو بڑھانے کے لئے ان کی زبان کو سیکھنا ناگزیر ہے.

ڈاکٹر شاد آرام کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ایران اور پاکستان کے نجی شعبوں نے فارسی کو فروغ دینے میں موثر کردار ادا نہیں کیا. یہاں لوگوں کو چینی اور کوریائی زبان سیکھنے کے بعد اس بات ہے کہ انھیں مارکیٹ میں اچھا روزگار ملے گا.

انہوں نے یہ تجویز دی کہ ہم پاک ایران تجارتی سرگرمیوں میں شریک تاجروں اور کاروباری حلقوں کو بھی فارسی زبان سے منسلک کرسکتے ہین اور انھیں اپنی سرگرمیوں میں آسانی کے لئے فارسی کو فروغ دے سکتے ہیں.

ایرانی پروفیسر نے دونوں ممالک کی ثقافت اور تاریخ کو زندہ رکھنے اور ان کے اثرات کو اُجاگر کرنے کے لئےدونوں زبانوں کے ترجمے کے لئے خصوصی مراکز کے قیام کا مطالبہ کیا.

انہوں نے کہا کہ ثقافتی آثار کے ترجمے کی تحریک چلانی ہوگی جس طرح چین یہ تحریک چلائی ہے تا کہ وہ پوری دنیا میں اپنی تہذیب اور ثقافت کو اُجاگر کرے.

پروفیسر علی رضا شاد آرام نے اس بات پر زور دیا کہ فارسی کے فروغ کے لئے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا چاہئے مثال کے طور پر ای کلاسز کے انعقاد، آنلائن مکالمے اور ای لائبریری تا کہ ہم ملکی سطح پر فارسی اساتذہ کو بہتر اور آسان ذریعے سے تربیت دے سکے جس کے نتیجے میں وہ طالب علموں کو بھی فارسی بھتر سیکھا سکیں گے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@