پابندیاں اور جوہری معاہدہ ایک ساتھ نہیں چل سکتے: ایران کا انتباہ

تہران، 23 جون، ارنا - اعلی ایرانی رہنما نے اس بات پر انتباہ کیا ہے کہ اگر جوہری معاہدے میں ہمارے مفادات کو تحفظ فراہم نہیں ہوا تو اس میں شامل رہنا ممکن نہیں کیونکہ پابندیاں اور جوہری معاہدے ایک ساتھ نہیں چل سکتے.

یہ بات ایران کے جوہری توانائی ادارے کے سربراہ ''علی اکبر صالحی'' نے ناروے کے دارالحکومت 'اوسلو' میں بین الاقوامی امور کے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (NUPI) کے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی.

جوہری معاہدے کو ایک بین الاقوامی اور چند فریقی دستاویز قرار دیتے ہوئے صالحی نے مزید بتایا کہ اس سمجھوتہ کئی ممالک کی کوششوں کا نتیجہ اور اس کی حفاظت بین الاقوامی برادری کے لئے ایک امتحان ہے.

صالحی نے ایران کے ذریعے اس چند فریقی معاہدے کے حصول کے راستے میں مسائل کے حل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنی جوہری پروگرام کے حوالے سے بین الاقوامی طاقتوں کے بے بنیاد بہانہ کا جواب دینے کے ساتھ پرامن جوہری پروگرام کے استعمال پر ایرانی عوام کے مفادات کی ضروریات کو پورا کر دیا ہے.

انہوں نے علاقائی مسائل پر ایران کے مواقف پر تبصرہ کرتے ہوئے علاقا‏ئی مسائل کے حوالے سے خطے کی اصل طاقتوں کے درمیان باہمی مذاکرات کو خطے اور دنیا سے منسلک مسائل کے حل کرنے کا واحد اور بہترین طریقہ قرار دیا.

یاد رہے کہ علی اکبر صالحی اور نائب ایرانی صدر گزشتہ بدھ ناروے کے دورے پر پہنچ گئے.

تفصیلات کے مطابق، ایران کے جوہری توانائی ادارے کے سربراہ ناروے کا دورہ مکمل کرنے کے بعد آج وطن واپس پہنچ گئے.

9410*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@