فارسی پاکستان کی پہچان، فروغ کیلئے موثر اقدامات درکار

اسلام آباد، 23 جون، ارنا - فارسی نہ صرف برصغیر خطے کی صدیوں سے سرکاری اور عام زبان کے طورپر استعمال رہی ہے بلکہ یہ پاکستان اور پاکستانی عوام کی پہنچان بھی ہے جنہوں جو دہائیوں سے اس زبان سے منسلک رہے ہیں تاہم آج اس زبان کی تعلیم اور توثیق کے حوالے سے مزید اقدامات کی ضرورت ہے.

فارسی، پاکستان کا قومی ورثہ ہے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اور نا ٹوٹنے والا پُل ہے.

پاکستانی عوام اپنی قومی زبان اردو میں بات تو کرتے ہیں مگر وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ فارسی، اردو زبان کی ماں ہے جو صدیوں سے برصغیر میں رائج رہی ہے.

فارسی قریب ایک ہزار سال سے پاکستان سمیت برصغیر کے پورے خطے کی سرکاری زبان رہی ہے. برطانیہ نے 18ویں صدی میں فارسی کو سرکاری زبان کے درجے سے ہٹا کر انگریزی کو مسلط کردیا.

اس کے باوجود فارسی کو اردو ادب اور شاعری سے الگ نہیں کیا جاسکتا بلکہ فارسی کو اردو کی ماں سمجھا جاتا ہے کیونکہ اردو میں اکثریت فارسی الفاظ کی ہے یہاں تک کہ پاکستان کا قومی ترانہ بھی فارسی میں لکھا گیا ہے.

محسن پاکستان اور نامور قومی شاعر علامہ محمد اقبال کی تقریبا 70 فیصد شاعری فارسی میں ہے.

برصغیر میں برطانوی راج کے خاتمے اور پاک بھارت ریاستوں کے قیام کے بعد فارسی کو 1985 تک عربی اور دیگر مضامین کے ساتھ پاکستان کے تمام اسکولوں اور کالجز میں پڑھایا جاتا تھا.

پاکستان کے سابق فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق کے دور تک فارسی کو آٹھویں کلاس تک پڑھایا جاتا تھا مگر آج نہ صرف فارسی کو تعلیمی اداروں میں نظرانداز کیا گیا ہے بلکہ اردو زبان بھی فراموشی کی طرف جارہی ہے.

پاکستان میں فارسی زبان کے ماہرین کا خیال ہے کہ جو اردو آج عوام یہاں استعمال کررہے ہیں وہ بیشتر انگریزی الفاظ سے بھری ہوئی جس کی وجہ سے اردو زوال پذیر ہورہی ہے.

پاکستان میں ایک دور ایسا بھی تھا کہ فارسی کو سیکھنا یا پڑھنا فخر کی علامت سمجھات جاتا تھا، علما، دانشور اور ادبی عمائدین بھی فارسی پر اچھی گرفت رکھتے تھے، جمعہ کے خطبوں میں شیخ سعدی، شیخ فردوسی اور مولانا رومی کے اشعار پڑھے جاتے تھے، فارسی تمام کالجز اور جامعات میں پڑھی جاتی تھی مگر آج صورتحال اس کے برعکس ہے اور فارسی کی وہ مانگ نہیں رہی جو برسوں پہلے تھی.

اس حوالے سے ارنا نیوز ایجنسی نے پاکستانی شہر لاہور کی ویمن یونیورسٹی کے فارسی شعبے کی خاتون پروفیسر محترمہ ''فلیحہ زہرا کاظمی'' سے رابطہ کیا.

محترمہ کاظمی صاحبہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جو طالب علم فارسی سکھتا یا کوئی ڈگری حاصل کرتا ہے یہاں اسے کوئی پیشہ نہیں ملتا جس کے ذریعے وہ فارسی کو فروغ دے.

انہوں نے مزید کہا کہ ویمن یونیورسٹی میں اس وقت تقریبا 600 طالبہ فارسی کے حوالے سے ایم اے اور پی ایچ ڈی تک تعلیم حاصل کرہی ہیں اور ان میں سے 10 طالبہ پی ایچ ڈی کے لئے پڑ رہی ہیں.

خاتون ماہر فارسی نے کہا کہ اگر پاکستان میں ترجمے کے مراکز قائم کئے جائیں یا فارسی زبان سے متعلق تعلیمی اداروں سے تعاون کی فضا فراہم ہوں تو فارسی کے طالب علم بھی اس کے ذریعے اپنے لئے روزگار بنا سکتے ہیں.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں فارسی زبان کے تعلیمی مقاصد پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے. پاکستان کے تعلیمی مراکز میں ایک بار پھر فارسی کو شامل کیا جائے جس کی بدولت فارسی کے استاذہ یہاں اپنی سرگرمیوں کو فروغ دے سکتے ہیں.

زہرا کاظمی نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان ثقافتی اور اقتصادی تعاون کی توسیع سے فارسی اور عوام کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے میں مدد ملے گی.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@