ایران جوہری معاہدے میں شامل رہے، یورپ کا مطالبہ

تہران، 23 جون، ارنا - سوئٹزرلینڈ کی خاتون نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یورپ نہ صرف جوہری معاہدے میں ایران کے شامل رہنے کا خواہاں بلکہ مذاکرات کے ذریعے فریقین کی رضامندی کے ساتھ تمام مسائل کا حل چاہتا ہے.

یہ بات تہران کے دورے پر آئی ہوئی 'پاسکل بریسوِل' نے ایرانی اسپیکر کے معاون خصوصی برائے بین الاقوامی امور 'حسین امیرعبداللہیان' کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے کے فریقین کے درمیان مذاکرات کا تسلسل جاری رہنے سے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے.

خاتون سوئس سفارتکار نے بروسلز میں جوہری معاہدے کے حوالے سے تین یورپی ممالک کی حالیہ نشست کا ذکر دیتے ہوئے کہا کہ سوئٹزرلینڈ اور یورپی یونین اس بین الاقوامی معاہدے کے تحفظ کے خواہاں ہیں.

خاتون سفاتکار نے خطی صورتحال خاص طور پر شام اور عراق میں داعش کے خاتمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں امن اور استحکام کو برقرار رکھنے میں موثر کردار ادا کر رہا ہے.

اس موقع میں ایرانی اسپیکر کے معاون خصوصی نے امریکہ کے منفی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے بتایا کہ امریکہ، جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی کے بعد اب اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے بھی نکل گیا.

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نہ صرف عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتا ہے بلکہ وہ کسی بھی بین الاقوامی معاہدوں کی پرواہ نہیں کرتا.

امیر عبداللہیان نے علاقائی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے یمن اور شام میں امریکی اور اس کے بعض اتحادیوں کی فوجی مداخلت کو خطے کے استحکام اور سلامتی کے لیے ایک خطرہ قرار دیا.

عبداللہیان نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ یمن اور شام کے بحران کے سیاسی حل پر زور دیا ہے.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر صدر حسن روحانی اہنے سوئس ہم منصب کی دعوت پر رواں مہینے میں سوئٹزرلینڈ کا دورہ کریں گے.

9410*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@