جوہری معاہدے میں ایران کا شامل رہنا یورپی اقدامات پر انحصار ہے: عراقچی

ماسکو، 23 جون، ارنا - سنیئر ایرانی سفارتکار نے جوہری معاہدے کی آئندہ صورتحال کے حوالے سے کہا ہے کہ جوہری معاہدے میں ایران کے شامل رہنے کا انحصار اس بات پر ہے کہ یورپی ممالک، روس اور چین مثبت اقدامات اٹھائیں.

یہ بات ''سید عباس عراقچی'' نے روسی دارالحکومت ماسکو کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ایران جوہری معاہدہ کی صورتحال اچھی نہیں کیونکہ امریکہ اس سے نکل گیا اور ایران پر نئی پابندیاں لگادی گئیں لہذا عالمی جوہری معاہدہ کا عدم استحکام کا شکار ہونا انوکھی بات نہیں.

انہوں ںے کہا کہ اس وقت ہم دیکھ رہے ہیں کہ روس اور چین سمیت یورپی ممالک کس حد تک جوہری معاہدے میں امریکی غیرموجودگی سے پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو پاسکتے ہیں.

عراقچی نے مزید کہا کہ ہم انتظارکررہے ہیں کہ دوسرے فریق ایرانی مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ ایران کے ساتھ بین الاقوامی تعاون کی راہ کو ہموار کریں.

انہوں نے کہا کہ ایران اپنے مؤقف کا پہلے سے اعلان کرچکا ہے، صدر روحانی نے بھی کہا تھا کہ ایران نے جوہری معاہدے میں شامل رہنے یا نہ رہنے سے متعلق فیصلہ نہیں کیا اور ہمارا یہ فیصلہ یورپی ممالک، چین اور روس کے ساتھ مذاکرات پر منحصر ہے.

اعلی ایرانی سفارتکار نے بتایا کہ دوسرے فریق کے ساتھ جامع مذاکرات کے بعد یہ پتہ چلے گا کہ ایران کے جوہری معاہدے میں شامل رہنے سے کیا اس کے مفادات فراہم ہوں یا نہیں.

انہوں نے جوہری معاہدے سے متعلق روس سے ایران کی توقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران روس تعلقات جوہری معاہدے سے بڑھ کر ہیں لہذا یہ تعلقات چاہے جوہری معاہدہ ہو یا نہیں برقرار رہیں گے.

سید عباس عراقچی نے کہا کہ روس کے جوہری معاہدے پر مؤقف تعمیری ہے اور وہ ایرانی مطالبات کی منظوری اور مفادات کی فراہمی پر زور دیتا ہے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@