ایران اور سعودیہ کا تیل پیداوار پر اتفاق

ویانا، 22 جون، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران اور سعودی عرب اوپیک تنظیم کے اجلاس کے موقع پر تیل پیداوار کی سطح کے حوالے سے اتفاق پر پہنچ گئے ہیں.

یہ بات ایران کے وزیر تیل ''بیژن نامدار زنگنہ'' نے جمعہ کے روز ویانا میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (OPEC) کے 174ویں اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اوپیک اجلاس سے پہلے ایرانی وزیر تیل نے اپنے سعودی ہم منصب ''خالد بن عبدالعزیز الفالح'' کے ساتھ خصوصی ملاقات کی.

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی وزیر توانائی کے ساتھ تیل کی پیداوار کی سطح کو برقرار رکھنے سے متعلق ایک اتفاق رائے پر پہنچ گئے ہیں.

ایرانی وزیر تیل نے اس اتفاق رائے پر مزید بات نہیں کی تاہم انہوں نے کہا کہ اتفاق رائے کے حتمی معاہدے کی توثیق ہونی چاہئے.

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تناؤ کے باوجود ان کے سعودی ہم منصب کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں.

ایرانی وزیر تیل نے امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر انتباہ کیا ہے کہ اگر ان پابندیوں کی وجہ سے ایرانی تیل کی پیداوار میں کمی آئے تو یہ تیل خریدنے والوں کے فائدے میں نہیں ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ تیل مارکیٹ کو چاہئے کہ پیداوار اور ضروریات کے مطابق اقدام کرے لہذا سیاسی تناؤ کو مسلط کرنا خریداروں کے لئے نقصان دہ ہوگا.

بیژن نامدار زنگنہ نے کہا کہ ایران مخالف امریکی پابندیاں یکطرفہ فعل ہے اور اسے عالمی برادری کی حمایت حاصل نہیں لہذا ہمیں امید ہے ایران اپنے تیل کی فروخت کے لئے موثر طریقہ اپنائے گا.

انہوں نے مزید کہا کہ اوپیک ایک مستقل تنظیم ہے اور ہم نہ ہم ڈونلڈ ٹرمپ سے حکم لیتے ہیں اور نہ اس پر عمل کرتے ہیں لہذا ٹرمپ کو یہ بات سمجھنا ہوگی.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@