یورپ، امریکہ کی بدمعاشی کا مقابلہ کرے: خرازی

روم، 22 جون، ارنا - اعلی ایرانی ایلچی اور نامور سفارتکار کمال خرازی نے یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ امریکی بدمعاشیوں کے خلاف مزاحمت کریں.

یہ بات ڈاکٹر ''سید کمال خرازی'' جو ایران کے سابق وزیر خارجہ بھی ہیں، نے اطالوی اخبار اِل مینی فیستو (Il manifesto) کو خصوصی انٹریو دیتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے ایران کے ساتھ اقتصادی تعاون کرنے والے ممالک کو امریکی دھکمیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے خرازی نے کہا کہ ایران ہمیشہ کی طرح اپنا دفاع کرنا جانتا ہے. امریکی دھمکی یورپی مفادات کے منافی ہے.

انہوں ںے مزید کہا کہ یورپی ممالک کو چاہئے کہ حفاظتی اقدامات کے ذریعے اپنی تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کی خود حفاظت کریں.

خرازی نے کہا کہ امریکی پابندیاں صرف ایران کے خلاف نہیں بلکہ اس سے دیگر ممالک بالخصوص یورپ کو نقصان ہوگا. یکطرفہ پابندیوں سے امریکہ کی بڑھتی ہوئی بدمعاشی نظر آتی ہے جس کا اصل مقصد دیگر ممالک کے مفادات کو نقصان پہنچانا ہے.

سید کمال خرازی نے کہا کہ ایران میں اسلامی انقلاب کو تباہ کرنا امریکہ کا اصل مقصد جس میں وہ ہمیشہ ناکام رہا ہے. امریکی عزائم کے برعکس آج اسلامی جمہوریہ ایران دنیا میں مزید طاقتور، باعزت اور با اثر ملک کے طور پر ابھر رہا ہے.

انہوں نے مشرقی وسطی کے بحرانوں کے حل سے متعلق بتایا کہ مسئلہ فلسطین سب سے بڑی مشکل ہے اور امریکہ نے اپنے سفارتخانے کو بیت المقدس منتقل کرکے اس مشکل کو مزید پیچیدہ بنا دیا.

سابق ایرانی وزیر خارجہ نے دہشتگردوں کی حمایت کرنے کے الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے دوستوں اور ہمسایوں کا دفاع کرتا ہے بلکہ یہ امریکہ اور بعض عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب ہیں جو دہشتگرد عناصر کی بھرپور حمایت کررہے ہیں.

سید کمال خرازی نے بتایا کہ امریکہ ہمارے ساتھ مذاکرات چاہتا ہے مگر ہم نہیں، کیونکہ امریکہ ناقبال بھروسہ ہے اور ہمیں اس مسئلے کا اچھی طرح تجربہ ہے.

مشرق وسطی کی صورتحال پر تبصرہ کرتےہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور ناجائز صہیونی ریاست ایران مخالف امریکی پالیسی کے سخت حامی ہیں. سعودی عرب کو جمہوریت کا کچھ پتہ ہی نہیں بلکہ وہ آج دہشتگرد عناصر بالخصوص شام میں داعش کی کھلی حمایت کررہا ہے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@