ایران کیجانب سے یورپ کو گیس برآمدات کیلئے بنیادی ڈھانچے کی تیاری

تہران، 20 جون، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران نے ملک میں گیس کی ترسیل کے لئے 9ویں پائپ لائن منصوبے کو بھی پایہ تکمیل تک پہنچادیا ہے جس پر 4 ارب ڈالر لاگت آئی ہے اور اس کے ذریعے یورپ سمیت، عراق اور ترکی کو بھی گیس برآمدات میں قابل قدر اضافہ ہوگا.

تفصیلات کے مطابق، چار ارب ڈالر کی لاگت سے مکمل کئے جانے والے پائپ لائن منصوبے کی مدد سے یورپی ممالک کو گیس برآمد کرنے کے بنیادی ڈھانچے بھی مضبوط ہوں گے.

اس وقت ایران بھر میں 36 ہزار کلومیٹر گیس پائپ لائن بچھائی گئیں ہیں جس میں ہائی پریشر گیس کی ترسیل کو یقینی بنیا گیا ہے. یہ گیس نظام دنیا کا سب سے بڑا گیس نیٹ ورک ہے جس میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے.

اس حوالے سے قومی گیس کمپنی کے منصوبہ بندی ڈائریکٹر ''حسن منتظر تربتی'' نے کہا کہ ایرانی گیس کی برآمدات کے حوالے سے خلیج فارس کے ممالک کے بعد یورپی ممالک گیس کی برآمدات میں دوسری ترجیح ہیں.

انہوں ںے 9ویں گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلق کہا کہ یہ پائپ لائن 1750 کلومیٹر پر مشتمل ہے جسے ملک کے جنوبی علاقے عسلویہ سے لے کر ایران کے شمال مغربی سرحدی علاقے بازرگان تک بچھایا گیا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے میں استعمال ہونے والے اکثر سازمان ملک کے اندر ہی تیار کیا گیا ہے.

ایرانی عہدیدار نے کہا کہ آج ملک کی گیس پیداوار کی شرح یومیہ 80 کروڑ میٹر کیوبک تک پہنچ گئی ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ جنوبی پارس توانئی زون کے تمام فیزوں کی تکمیل سے گیس پیداوار کی شرح ایک ارب20 کروڑ میٹر کیوبک تک پہنچ جائے گی.

ایران میں گیس کی پیداوار میں اضافہ کی مدد سے یورپ کو سالانہ 30 ارب میٹر کیوبک گیس برآمدات میسر ہوں گی.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایران نے پاکستان کو بھی گیس برآمد کرنے کےلئے پائپ لائی بیچھائی ہے تاہم پاکستان نے اپنی حدود میں اس منصوبے کو مکمل کرنے سے متعلق ابھی تک کوئی قدم نہیں اٹھایا.

ایران کی عمان کو گیس برآمدات کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ آئندہ تین سالوں میں اس منصوبے پر کام کا آغاز ہوگا.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@