چین کا امریکہ کے بجائے ایران سے تیل لینے پر غور

تہران، 19 جون، ارنا - چین اور امریکہ کے درمیان اقتصادی کشیدگی میں اضافے سے یہ امکانات بڑھ رہے ہیں کہ چین اب امریکہ کے بجائے تیل درآمدات کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کو ترجیح دے گا.

یہ بات جی ٹی ڈی انرجی سروسز کمپنی کے ڈائریکٹر اور ماہر امور اقتصادیات ''جان درسکول'' نے رائٹرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.

ان کا کہنا تھا کہ بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان اقتصادی جنگ میں مزید اضافہ ہوتاجارہا ہے جس یہ بات ظاہر ہورہی ہے کہ چین ایران کے ذریعے اپنی تیل کی ضروریات کو پورا کرنے پر غور کر رہا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ چین نے امریکہ کی جانب سے ٹیرف میں غیرمعمولی اضافے کا سنگین جواب دینے کی دھمکی دی رکھی ہے لہذا اس بات کا امکان ہے کہ چین جوابی کاروائی میں امریکہ کے بجائے ایران سے تیل لینے کا آغاز کرے.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر چین، امریکی تیل خریدنے کی سطح کو کرتے ہوئے امریکی پابندیوں کے باوجود وہ ایران سے تیل فراہم کرنے کا فیصلہ کرے تو اس سے اسلامی جمہوریہ ایران کو قابل قدر اقتصادی فائدہ ملے گا.

یاد رہے کہ امریکہ نے گزشتہ دنوں میں چینی مصنوعات پر پچاس ارب ڈالر کے اضافی ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا.

دوسری جانب چین نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے تجارتی پابندیوں اور نئے درآمدی محصولات کے فیصلے پر نظرثانی نہ کرے تو دونوں ملکوں کے تجارتی مذاکرت کا کوئی فاہدہ نہیں ہوگا.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@