ایران، قطر کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا: روحانی

تہران، 18 جون، ارنا - صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے قطر کے خلاف غیرمنصفانہ محاصرے کو علاقائی ممالک کے درمیان کشیدگی اور تفرقہ کی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران، قطر کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا.

یہ بات ڈاکٹر 'حسن روحانی' نے آج قطر کے امیر 'شیخ تمیم بن حمد آل ثانی' کے ساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.

دونوں رہنماوں نے علاقائی مسائل کے پُرامن حل کے لئے خطی ممالک بالخصوص خلیج فارس کی ریاستوں کے درمیان اجتماعی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے.

اس ٹیلی فونک گفت وگو کے دوران صدر روحانی نے قطری امیر کو عیدالافطر کی آمد پر مبارکباد پیش کی.

انہوں نے مزید کہا کہ قطر کے خلاف غیرمنصفانہ گھیراو سے علاقائی ممالک کے درمیان تفرقہ اور کشیدگی کی فضا میں اضافہ ہوگا تاہم ایران خطی ممالک اور اقوام کو مزید قریب لانے کے لئے اپنی ہر کوشش بروئے کار لانے کے لئے پُرعزم ہے.

ایرانی صدر نے قطر کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعلقات کی توسیع کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ پر کوئی حد مقرر نہیں ہے.

انہوں نے دباؤ، دھمکیوں اور غیرمنصفانہ محاصرے کے خلاف قطری عوام اور حکومت کی مزاحمت کو سراہا.

صدر روحانی نے مزید کہا کہ خطے میں بعض ممالک کی مہم جوئی پر مبنی پالیسوں کو درست نہیں سمجھتے کیونکہ ایسی پالیسی کا سلسلہ جاری رکھنے سے خطی مسائل بالخصوص فلسطین، شام اور یمن کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جائے گا.

انہوں نے مقبوضہ فلسطین بالخصوص غزہ میں نہتے فلسطینیوں کے خلاف صہیونی جارحیت اور بربریت کا ذکر کرتے ہوئے عالم اسلام سے مسئلہ فلسطین کی اجتماعی حمایت کا مطالبہ کیا.

ایرانی صدر نے کہا کہ یمنی بحران کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں بلکہ اس مسئلے کو تمام یمنی فریقین کے درمیان مذاکرات اور سیاسی عمل کے ذریعے سے حل کیا جانا چاہئے.

اس موقع پر قطری امیر نے بھی ایرانی صدر کو عیدالفطر کی آمد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں اختلافات کو صرف مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@