نامور امریکی فلمسٹار انجلینا جولی کے دورہ موصل پر عراقیوں کا ردعمل

بغداد، 18 جون، ارنا - ہالی وڈ کی شہرہ آفاق اور نامور امریکی فلمسٹار 'انجلینا جولی' جو اقوام متحدہ کی خیرسگالی کی سفیر ہیں، آج کل داعش دہشتگردوں کے شکار ہونے والے شہر ''موصل'' کے دورے پر ہیں جس پر عراق میں مختلف ردعمل سامنے آرہے ہیں.

انجلینا جولی اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے امور پناہ گزین کی سفیر خیرسگالی ہیں جنہوں نے عراقی شہر موصل کے دورے پر آئی ہیں.

انجلینا جولی ھفتہ کے روز تباہ ہونے والے شہر موصل پہنچیں جہاں انہوں اس شہر کے تباہ شدہ علاقوں کا دورہ کیا جو تین سال سے داعش کے دہشتگردوں کے زیر قبضے میں تھا. تاہم عراقی میڈیا نے اس دورے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی.

دوسری طرف عراقی علاقے کردستان کی حکومت نواز میڈیا اور بعض عربی قوم پرست ذرائع ابلاغ نے اس دورے کو خصوصی کوریج دی.

سوشل میڈیا پر بھی انجلینا جولی کے دورہ موصل کا چرچا ہے اور بعض لوگوں نے انجلینا جولی کی جانب سے موصل کی تعمیرنو کے لئے 20 لاکھ ڈالر کی امداد کو بھی سراہا ہے تاہم بعض حلقوں نے امداد کو مشہوری کا ذریعہ قرار دیا ہے.

شاید عراقی عوام اپنے ردعمل میں یہ سوال پوچھنا چاہتے ہوں کہ محترمہ انجلینا، آپ کے پاس یمنی اور شامی بچوں سے کیا نئی تازی خبر ہے؟

عراق میں سوشل میڈیا کے ورکرز نے کہا ہے کہ امریکہ جارحیت اور غیرقانونی اقداماکے کے ذریعے عراق کی تخریب کاری اور تباہی میں ملوث ہے جبکہ ہالی ووڈ سٹار بحیثیت خیرسگالی سفیر تباہ شدہ عراقی شہروں کا دورہ کرکے امریکہ کے نام نہاد پُرامن چہرے کو اُجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں.

علی محمود جو ایک عراقی سوشل میڈیا کے کارکن ہے کہتے ہیں کہ جب امریکی طیارے عراقی شہروں پر بمباری کرکے نہتے عوام کو نشانہ بنارہے تھے تب انجلینا جولی کہاں تھیں؟

ایک اور عراقی سوشل میڈیا کارکن نے کہا کہ ٹرمپ کی صاحبزادہ نے سعودی عرب کا دورہ کیا جہاں وہ سعودیوں سے 450 ارب ڈالر بٹورنے میں کامیاب ہوئیں لہذا اگر انجلینا جولی سعودیہ جائیں تو ہوسکتا ہے کہ مملکت سعودی عرب کے نام مملکت عربی جولی میں بدل جائے.

عراقی سوشل میڈیا کے ردعمل کا سلسلہ یہاں ختم نہیں ہوا بلکہ بعض لوگوں نے امریکہ کی جانب سے 2001 میں عراق کے خلاف جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے انجلینا جولی نے یہ سوال کیا کہ انہوں کیوں نہیں یمن یا شام کا دورہ کیا؟

یہ بات قابل ذکر ہے کہ عراق پر امریکی جارحیت کے بعد انجلینا جولی کا یہ پانچواں دورہ ہے اور یہ دورہ ایسے وقت میں کیا جارہا ہے کہ سعودی قیادت میں عرب اتحاد یمنی بندرگاہ 'الحدیدہ' پر شدید فضائی اور سمندری حملے کررہا ہے.

عالمی صحت ادارے نے انتباہ کیا ہے کہ الحدیدہ بندرگاہ پر جارحیت نہ روکنے سے تقریبا 25 لاکھ سویلین کی زندگیاں خطے میں پڑ جائیں گی.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@