امریکی دباؤ کے باوجود ایران کیساتھ باہمی تعاون کو جاری رہیں گے: چین

بیجنگ، 17 جون، ارنا – چینی اکیڈمی آف سوشل سائنسز برائے عالمی معیشت اور سیاست کے انسٹی ٹیوٹ کے اہلکار نے کہا ہے جوہری معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی اور واشنگٹن کا دباو اسلامی جمہوریہ ایران اور چین کے درمیان دو طرفہ تعلقات پر کوئی اثرات مرتب نہیں کرسکتا ہے.

یہ بات 'وانگ یانگژونگ' نے اتوار کے روز ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہم امریکی دباو کے باوجود ایران جوہری معاہدہ اور دوطرفہ اقتصادی تعلقات کی حمایت کو جاری رکھیں گے.

یانگژونگ نے اس بات پر زور دیا کہ اس سے پہلے ایران کے خلاف عالمی پابندیاں عائد ہوگئی تھی مگر اب جوہری معاہدے سے امریکہ کے نکل کرنے کے باوجود دوسرے ممالک اس معاہدے کے تحفظ کے لئے پر عزم ہیں جو ایران کے مفاد میں ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک یورپی ممالک اور روس جوہری معاہدے پر قائم ہیں امریکہ ایران اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات پر کوئی دباؤ ڈال نہیں کرسکتا ہے.

انہوں نے کہا کہ چین ایک خودمختار ملک ہے جو امریکہ کے ایک فریقی قوانین کو عالمی قوانین کے طور منظور نہیں کرتا ہے۔ ہم ایران کے ساتھ دو طرفہ تعلقات میں عالمی قوانین پر عملدرآمد کرتے ہیں.

وانگ نے کہا کہ جوہری معاہدے سے ٹرمپ کی علیحدگی کے بعد چینی کمپنیاں اسلامی جمہوریہ ایران سے باہر نکل نہیں کرکے باہمی تعاون کو جاری رکھ رہی ہیں.

انہوں نے کہا کہ چین کی سڑکوں کی تعمیر اور میٹرو کمپنیاں نہ صرف کبھی بھی اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ باہمی تعاون کو چھوڑ نہیں کرکے بلکہ دو طرفہ تعلقات کو فروغ کے لئے بھرپور کوشش کریں گی.

چینی اہلکار نے کہا کہ امریکی دباو دونوں ممالک کے درمیان بینکاری تعلقات کے آنے والے مسائل کی اصلی وجہ ہے کیونکہ چین کے بڑے بینکوں نے امریکہ کے ساتھ اقتصادی تعلقات قائم کئے ہیں.

9393**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@