مسلم اقوام کی جدوجہد سے صہیونیوں کا خاتمہ یقینی ہے: آیت اللہ خامنہ ای

تہران، 15 جون، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر نے امت مسلمہ کے لئے اتحاد اور اختلافات کے خاتمے کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ مسلم اقوام کی جد و جہد سے یقینا ناجائز صہیونی ریاست کا خاتمہ ممکن ہے.

یہ بات قائد اسلامی انقلاب حضرت آیت اللہ العظمی ''سید علی خامنہ ای'' نے جمعہ کے روز عید الفطر کے موقع پر اعلی حکومتی قیادت، مختلف قومی اداروں کے حکام اور ایران میں تعینات اسلامی ممالک کے سفیروں کے ساتھ ایک ملاقات میں خطاب کرتے ہوئے کہی.
سپریم لیڈر نے مزید فرمایا ہے کہ غاصب صہیونی ریاست کا اصل مسئلہ اس کا غیر قانونی ہونا ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ وہ جلد ختم ہو جائے گی.
انہوں نے فرمایا کہ اس قسم کی غیرقانونی حکومتیں جن کی بنیاد برائی پر رکھی گئی ہوں وہ ہمیشہ ختم ہو جاتی ہیں.
انہوں نے مزید فرمایا کہ خطے میں سازش کے تحت مسلمانوں کو آپس میں لڑایا جا رہا ہے اور مجرم امریکہ اور صہیونیوں کی پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں آپس میں اتحاد قائم کرنا ہو گا.
سپریم لیڈر نے فرمایا کہ مسلم ممالک کی حکومتوں، سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیموں پر یہ زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ناجائز صہیونی ریاست کے سامنے اٹھ کھڑی ہوں.
انہوں نے مزید فرمایا کہ صہیونی ریاست کے قیام کا مقصد مسلمانوں کو تقسیم کر کے ان کے مسائل میں اضافہ کرنا ہے مگر تاریخ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ صہیونی ریاست جو ناجائز ہے وہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی.
آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا کہ ناجائز ریاست کے ساتھ کھلے عام یا پوشیدہ طور پر تعلقات قائم کرنے سے یا امریکہ کے القدس میں اپنے سفارتخانے کو کھولنے سے اسرائیل جائز ریاست نہیں بن سکتا.
انہوں نے مزید فرمایا کہ ناجائز صہیونی ریاست کا وجود مسلمانوں کے دلوں میں ایک گہرے زخم کی طرح ہے اور فلسطینیوں کو دنیا کے نقشے اور تاریخ سے کوئی نہیں نکال سکتا.
سپریم لیڈر نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی حکومت کے قیام کے لئے اصل فلسطینیوں جن میں مسلمان، عیسیائی اور یہودی شامل ہوں، ریفرینڈم کروانے کی ضرورت ہے.
انہوں نے فرمایا کہ اگر اس طرح کا استصواب رائے تو ناجائز صہیونی حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا اور ایک حقیقی فلسطینی حکومت وجود میں آئے گی جسے لوگوں کی پشت پناہی حاصل ہو گی.
271*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@