چین میں ایرانی طلبا کا بینکی مسائل جلد حل ہوجائیں گے: چیف ایرانی بینک

بیجنگ، 11 جون، ارنا - ایرانی مرکزی بینک کے سربراہ نے کہا ہے کہ چینی حکام کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت چین میں ایرانی طلبا کا مسائل جلد سے ہوجائیں گے.

یہ بات 'ولی الله سیف' نے اتوار کے روز چھینگ تاؤ میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے 18ویں سربراہی اجلاس کے موقع پر ارنا کے نمائندے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.
ایرانی سنٹرل بینک کے سربراہ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی بھرپور کوششوں کے بعد چینی صدر نے اس ملک میں مقیم ایرانی طلبا کے بینکی مسائل کو حل کرنے کا حکم جاری کر دیا تو امید ہے کہ مستقبل قریب میں ان مسائل کو حل کیا جائے گا.
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور چین کے درمیان 4 اقتصادی معاہدوں پر دستخط کئےگئے.
سیف نے کہا کہ دونوں ممالک کی اہم ترجیح باہمی تجارتی تعلقات کی توسیع کے لیے بینکنگ کے مناسب نظام کا قیام اور بینکی تعلقات کو فروغ دینا ہے.
صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر 'حسن روحانی' اپنے چینی ہم منصب کی دعوت پر شنگھائی تعاون تنظیم(SCO) کے 18ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے جمعہ کے روز چین کے شہر 'چھینگ تاؤ' پہنچ گئے.
تفصیلات کے مطابق اس دورے میں صدر مملکت ڈاکٹر روحانی ایک اعلی سطحی سیاسی اور اقتصادی وفد کی قیادت کررہے ہیں جس میں وزیر خارجہ محمد جواد ظریف، وزیر تیل بیژان نامدار زنگنہ، وزیر خزانہ مسعود کرباسیان، مرکزی بینک کے سربراہ ولی اللہ سیف صدارتی مشیر نہاوندیان شامل ہیں.
شنگھائی تنظیم کے سربراہی اجلاس 9 اور 10 جون کو چین کے ساحلی شہر چھینگ تاؤ میں منعقد ہوگا جس میں اس تنظیم کے 8 مستقل اراکین اور چار مبصر رکن ممالک کے سربراہوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تنظیموں کے حکام شریک ہیں.
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران 2005 سے شنگھائی تعاون تنظیم میں مبصر کی حیثیت سے فعال ادا کر رہا ہے. اس تنظیم کے رکن ممالک نے متفقہ طور پر کہا تھا کہ عالمی قوتوں کے ساتھ ایران کے حتمی جوہری معاہدے کے بعد تہران کو شنگھائی تعاون تنظیم میں دائمی رکنیت دی جائے گی.
9410*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@