ایرانی وزیر خزانہ کا ایران اور چین کی قومی کرنسیوں سے استعمال پر زور

چھینگ تاؤ ، 11 جون، ارنا – ایرانی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور چین کے درمیان دستخط ہونے والے معاہدے کے مطابق، تجارتی تبادلوں کے لئے دونوں ممالک کی قومی کرنسیوں سے استعمال کیا جاتا ہے.

یہ بات 'مسعود کرباسیان' نے اتوار کے روز چینی شہر چھینگ تاؤ میں ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے صدر روحانی کی جانب سے چین کے حالیہ دورے پر دستخط ہونے والے چار معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدوں میں سے ایک تجارتی تبادلوں کے لئے دونوں ممالک کی قومی کرنسیوں سے استعمال کرنا ہے.

کرباسیان نے کہا کہ اس معاہدے کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو 'ایک سڑک- ایک بلیٹ' کے منصوبے کے تحت ہونا چاہیئے.

انہوں نے مزید کہا کہ اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی اور تعلیمی شعبوں میں باہمی تعاون کے معاہدے پر دستخط کردیا گیا.

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور چین کی اسٹاک ایکسچینجز نے باہمی تعاون کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں.

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے منشیات کی اسمگلنگ اور منصوبہ بندی جرائم کو روکنے کے معاہدے پر دستخط کردئے ہیں.

ایرانی وزیر خزانہ نے کہا کہ صدر روحانی کی جانب سے چین کے حالیہ دورے پر دونوں ممالک کے صدور نے مختلف شعبے سمیت بینکاری، تیل، پیٹروکیمیکل اور تجارتی تبادلوں پر تبادلہ خیال کئے.

صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر 'حسن روحانی' اپنے چینی ہم منصب کی دعوت پر شنگھائی تعاون تنظیم(SCO) کے 18ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے جمعہ کے روز چین کے شہر 'چھینگ تاؤ' پہنچ گئے.

شنگھائی تنظیم کے سربراہی اجلاس 9 اور 10 جون کو چین کے ساحلی شہر چھینگ تاؤ میں منعقد ہوگا جس میں اس تنظیم کے 8 مستقل اراکین اور چار مبصر رکن ممالک کے سربراہوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تنظیموں کے حکام شریک ہیں.

9393٭274٭٭

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@