ایران اور چین تمام شعبوں میں اسٹریٹجک تعاون کی توسیع کیلئے پُرعزم ہیں: روحانی

چھینگ تاؤ، 11 جون، ارنا - صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ ایران اور چینی حکومتیں مختلف شعبوں میں اسٹریٹجک تعاون کی توسیع اور باہمی تعلقات کو مزید بڑھانے کے لئے پُرعزم ہیں.

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر 'حسن روحانی' نے گزشتہ روز شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر چینی صدر 'شی چن پنگ' کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا.

اس موقع پر انہوں ںے شی چن پنگ کو چین کا دوبارہ صدر بننے اور شنگھائی اجلاس کےکامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کی.

انہوں نے مزید کہا کہ چین حالیہ برسوں میں ایران کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر رہا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک کے لوکل کرنسی کے استعمال اور بینکاری تعلقات کے فروغ سے تجارتی سرگرمیوں کی سطح میں مزید اضافہ ہوگا.

ایران جوہری معاہدے سے تعلق چین کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر روحانی نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اس معاہدے کو جاری رکھنے کے لئے بھی بیجنگ کا کردار اہم ہوگا.

انہوں نے جوہری معاہدے کے دیگر فریقین کی جانب سے ذمے داری ادا کرنے پر زور دیتے ہوئے اس معاہدے کے تحت ایران میں اراک ہیوی واٹر ریسرچ ری ایکٹر منصوبے کی جلد تکمیل کا مطالبہ بھی کیا.

اس ملاقات میں چین کے صدر نے ایران جوہری معاہدے کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے اس معاہدے سے نکلنے پر امریکہ کے یکطرفہ فیصلہ اور عالمی قوانین کو نظرانداز کرنے پر کڑی تنقید کی.

شی چن پنگ نے مزید کہا کہ چین، اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کثیر الجہتی تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے.

انہوں نے امریکی عزائم کا مقابلہ کرنے کے لئے چین اور ایران کے درمیان عالمی فورم بالخصوص اقوام متحدہ، شنگھای تنظیم اور ایشیا میں باہمی رابطے اور اعتماد سازی کے اقدامات کی تنظیم (سی آئی سی اے) میں مشترکہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@