بیجنگ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کا اختتام، مشترکہ اعلامیہ جاری

بیجنگ، 10 جون، ارنا - چینی شہر چھینگ تاؤ میں منعقدہ دو روزہ اجلاس کا بروز منگل اختتام ہوگیا جس میں فریقین نے مشترکہ اعلامیہ میں دہشتگردی، منشیات کی اسمگلنگ اور سیکورٹی کے چیلنجوں سے نمٹنے پر زور دیا۔

تفصیلات کے مطابق، روس، کرغزستان، قازقستان، تاجکستان، ازبکستان، بھارت اور پاکستان کے رہنماؤں نے آج بروز اتوار شنگھائی تعاون تنظیم کے 18 ویں اجلاس کے اختتام کے موقع پر ایک مشترکہ بیان جاری کردیا۔

اس اجلاس میں شنگھائی تعاون تنظیم کے حکام نے دہشت گردی، منشیات، بیماری اور ماحولیاتی آلودگی سے لڑنے کے حوالے سے 17 معاہدوں پر دستخط کئے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس اجلاس میں شامی بحران، جوہری معاہدے، یوکرائن اور جزیرہ نما کوریا کے مسائل کا جائزہ لیا گیا۔

صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر 'حسن روحانی' اپنے چینی ہم منصب کی دعوت پر شنگھائی تعاون تنظیم(SCO) کے 18ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے جمعہ کے روز چین کے شہر 'چھینگ تاؤ' پہنچ گئے.

تفصیلات کے مطابق اس دورے میں صدر مملکت ڈاکٹر روحانی ایک اعلی سطحی سیاسی اور اقتصادی وفد کی قیادت کررہے ہیں جس میں وزیر خارجہ محمد جواد ظریف، وزیر تیل بیژان نامدار زنگنہ، وزیر خزانہ مسعود کرباسیان، مرکزی بینک کے سربراہ ولی اللہ سیف صدارتی مشیر نہاوندیان شامل ہیں.

شنگھائی تنظیم کے سربراہی اجلاس 9 اور 10 جون کو چین کے ساحلی شہر چھینگ تاؤ میں منعقد ہوگا جس میں اس تنظیم کے 8 مستقل اراکین اور چار مبصر رکن ممالک کے سربراہوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تنظیموں کے حکام شریک ہیں.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران 2005 سے شنگھائی تعاون تنظیم میں مبصر کی حیثیت سے فعال ادا کر رہا ہے. اس تنظیم کے رکن ممالک نے متفقہ طور پر کہا تھا کہ عالمی قوتوں کے ساتھ ایران کے حتمی جوہری معاہدے کے بعد تہران کو شنگھائی تعاون تنظیم میں دائمی رکنیت دی جائے گی.

ایرانی صدر کل بروز اتوار کو چھینگ تاؤ سے تہران کی جانب روانہ ہوجائیں گے.

9410*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@