شنگھائی اجلاس: امریکی یکطرفہ پابندیاں بین الاقوامی تجارت کو نقصان پہنچائے گی

بیجنگ، 10 جون، ارنا – ایرانی صدر مملکت نے اپنی پالیسیوں کو دوسرے ممالک پر زبردستی مسلط کرنے کی کوشش کے لیے امریکی کی مذمت کرتےہوئے کہا کہ امریکہ کی یکطرفہ پانیدیاں بین الاقوامی قانونی تجارت کو نقصان پہنچائے گی.

ان خیالات کا اظہار 'حسن روحانی' نے اتوار کے روز چینی شہر چھینگ تاؤ میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے 18ویں سربراہی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے کہا کہ ایران ایک قابل اعتماد اور آزاد پارٹنر کی حیثیت سے علاقائی اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے لئے تیار ہے.

ایرانی صدر نے مزید بتایا کہ امریکہ اپنی پالیسیوں کو دوسروں پر مسلط کرنا چاہتا ہے اور یہ دنیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے.

اس موقع میں انہوں نے عالمی برادری کے درپیش سیاسی، سیکورٹی، تجارتی اور ثقافتی چیلنجوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی سطح پر ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ممالک کے مابین تعاون کے فروغ کی اشد ضرورت ہے.

روحانی نے غربت اور پسماندگی کو خطے میں دہشت گردی کے پھیلاؤ، انتہا پسندی، عدم استحکام اور بد امنی کے سب سے اہم عناصر قرار دیا.

انہوں نے کہا کہ ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے نکلنے کا فیصلہ بین الاقوامی قوانین اور قرادادوں کی خلاف ورزی ہے.

انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے کے تمام فریقین، اقوام متحدہ کی 2231 قرارداد کے تحت ایٹمی معاہدے کو بچانے کے لیے ذمہ دار ہیں.

روحانی نے عالمی اور علاقائی قیام امن کے لیے ایران کے اہم کردار کا حوالہ دیتے کہا کہ ایران اپنی جغرافیائی پوزیشن کی وجہ سےعلاقائی اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون کی توسیع کے لیے ایک قابل اعتماد پارٹنر ہو سکتا ہے.

صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر 'حسن روحانی' اپنے چینی ہم منصب کی دعوت پر شنگھائی تعاون تنظیم(SCO) کے 18ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے جمعہ کے روز چین کے شہر 'چھینگ تاؤ' پہنچ گئے.

تفصیلات کے مطابق اس دورے میں صدر مملکت ڈاکٹر روحانی ایک اعلی سطحی سیاسی اور اقتصادی وفد کی قیادت کررہے ہیں جس میں وزیر خارجہ محمد جواد ظریف، وزیر تیل بیژان نامدار زنگنہ، وزیر خزانہ مسعود کرباسیان، مرکزی بینک کے سربراہ ولی اللہ سیف صدارتی مشیر نہاوندیان شامل ہیں.

شنگھائی تنظیم کے سربراہی اجلاس 9 اور 10 جون کو چین کے ساحلی شہر چھینگ تاؤ میں منعقد ہوگا جس میں اس تنظیم کے 8 مستقل اراکین اور چار مبصر رکن ممالک کے سربراہوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تنظیموں کے حکام شریک ہیں.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران 2005 سے شنگھائی تعاون تنظیم میں مبصر کی حیثیت سے فعال ادا کر رہا ہے. اس تنظیم کے رکن ممالک نے متفقہ طور پر کہا تھا کہ عالمی قوتوں کے ساتھ ایران کے حتمی جوہری معاہدے کے بعد تہران کو شنگھائی تعاون تنظیم میں دائمی رکنیت دی جائے گی.

ایرانی صدر کل بروز اتوار کو چھینگ تاؤ سے تہران کی جانب روانہ ہوجائیں گے.

9410*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@