شنگھائی اجلاس: روس ایران جوہری معاہدے کے مکمل نفاذ کا خواہاں ہے

بیجنگ، 10 جون، ارنا - روسی صدر نے جوہری معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کو خطے کی بدامنی کی اہم وجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس ایران جوہری معاہدے کے مکمل نفاذ کا خواہاں ہے.

یہ بات 'ولادیمئیر پیوٹن' نے آج بروز اتوار چین کے ساحلی شہر چھینگ تاؤ میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے 18ویں سربراہی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے مزید بتایا کہ ہم جوہری معاہدے کے تناظر میں اپنے تمام وعدوں پر قائم ہیں اور دوسرے فریقین کو اپنے کئے گئے وعدوں پر قائم رہنا چاہیے.

انہوں شامی بحران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایران، ترکی اور قازقستان کے تعاون سے دہشتگردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے کامیاب نتائج حاصل کیے ہیں.

پیوٹن نے شنگھائی تعاون تنظیم کی اہم ترجیح کو دہشتگردی کے خلاف جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تنظیم میں سلامتی کے مختلف خطرات اور چیلنجوں سے مقابلہ کرنے کے حوالے سے معلومات اور نظریات کے تبادلے کے لئے ایک علاقائی ڈھانچہ تشکیل دی گئی ہے.

انہوں نے دہشت گردی کے چیلنجوں سے لڑنا اور افغانستان میں قیام امن اور استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے.

صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر 'حسن روحانی' اپنے چینی ہم منصب کی دعوت پر شنگھائی تعاون تنظیم(SCO) کے 18ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے جمعہ کے روز چین کے شہر 'چھینگ تاؤ' پہنچ گئے.

تفصیلات کے مطابق اس دورے میں صدر مملکت ڈاکٹر روحانی ایک اعلی سطحی سیاسی اور اقتصادی وفد کی قیادت کررہے ہیں جس میں وزیر خارجہ محمد جواد ظریف، وزیر تیل بیژان نامدار زنگنہ، وزیر خزانہ مسعود کرباسیان، مرکزی بینک کے سربراہ ولی اللہ سیف صدارتی مشیر نہاوندیان شامل ہیں.

شنگھائی تنظیم کے سربراہی اجلاس 9 اور 10 جون کو چین کے ساحلی شہر چھینگ تاؤ میں منعقد ہوگا جس میں اس تنظیم کے 8 مستقل اراکین اور چار مبصر رکن ممالک کے سربراہوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تنظیموں کے حکام شریک ہیں.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران 2005 سے شنگھائی تعاون تنظیم میں مبصر کی حیثیت سے فعال ادا کر رہا ہے. اس تنظیم کے رکن ممالک نے متفقہ طور پر کہا تھا کہ عالمی قوتوں کے ساتھ ایران کے حتمی جوہری معاہدے کے بعد تہران کو شنگھائی تعاون تنظیم میں دائمی رکنیت دی جائے گی.

ایرانی صدر کل بروز اتوار کو چھینگ تاؤ سے تہران کی جانب روانہ ہوجائیں گے.

9410*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@