صدر روحانی کا خطے کی سلامتی کیلئے افغانستان کے محفوظ اور پرامن کردار پر زور

بیجنگ، 9 جون، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے خطے کی سلامتی کے لئے افغانستان کے پرامن کردار پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس ملک میں پائیدار امن کو برقرار رکھنے اور دہشتگردی سے نمٹنے کے لئے کسی بھی کوششوں سے دریغ نہیں کریں گے.

ان خیالات کا اظہار 'حسن روحانی' نے ہفتہ کے روز چین کے شہر چھینگ تاؤ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے 18ویں سربراہی اجلاس کے موقع پر افغان صدر 'محمد اشرف غنی' کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم گزشتہ 40 سالوں کے دوران افغانی عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور دونوں دوست اور ہمسایہ ممالک کے درمیان مشترکہ ثقافت، سیکورٹی اور تجارتی مفادات قائم ہے.

صدر روحانی نے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ باہمی تعاون کے معاہدے پر دستخط کرنے پر امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہمسایہ ممالک بالخصوص افغانستان کے ساتھ مشترکہ سرمایہ کاری اور ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر شعبوں میں دوطرفہ تعلقات بڑھانے کے لئے پر عزم ہے.

انہوں نے سیاسی، اقتصادی، سیکورٹی اور ثقافتی شعبوں میں گہرے تعلقات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ چابہار بندرگاہ کے منصوبے جو بہارت اور افغانستان کے ذریعہ مکمل ہو رہا ہے، خطے کے ٹرانزٹ کے راستے کو فروغ دینے کے لئے ایک مثبت قدم ہے

انہوں نے دونوں ممالک کے نجی شعبوں کی ترقی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خواف- ہرات ریلوے لائن اور دوسرے منصوبے کی ترقی کے لئے سیاسی اور اقتصادی کوششیں لازمی ہے.

ایرانی صدر نے جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی پر دوسرے ممالک کی مخالفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایسے اقدام کے ساتھ نہ صرف ایک عالمی معاہدہ بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے معاہدوں کی خلاف ورزی کرتا ہے.

انہوں نے افعان صدر کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ اندرونی بات چیت کے ساتـھ اس ملک کی بڑھتی ہوئی ترقی کو دیکھیں گے.

انہوں نے کہا کہ ہمیں تمام علاقائی ممالک کے ساتھ منشیات کی اسمگلنگ سے نمٹنے کے لئے باہمی تعاون اور کوشش کرنا چاہیئے.

صدر مملکت نے عالمی مسائل میں دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی گروپوں تمام علاقے کے لئے ایک بڑے خطرے ہیں لہذا تمام ممالک اس لعنت کے خاتمے کے لئے کوشش کریں.

افغان صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو فروغ دینا ناگزیر ہے.

اشرف غنی نے کہا کہ چین اور وسطی ایشیا کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی ترقی کے لئے ایرانی چابہار بندرگاہ کی ترقی نہ صرف ایران بلکہ افغانستان اور بھارت کے لئے بہت ہی اہم ہے.

انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت کے ساتھ افغانستان میں پائیدار امن کی ترقی پر امید کا اظہار کیا.

9393٭274٭٭

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@