ایران میں روسی کمپنی،نجی شعبوں کی سرمایہ کار خیرمقدم کرتے ہیں: روحانی

بیجنگ، 9 جون، ارنا - ایران کے صدر نے روس کے ساتھ دوطرفہ تعلقات میں پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران روسی کمپنیوں بالخصوص نجی شعبوں کی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتا ہے.

یہ بات صدر مملکت ڈاکٹر 'حسن روحانی' نے ہفتہ کے روز چین کے شہر چھینگ تاؤ میں روسی صدر 'ولادیمیر پیوٹن' کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.
یہ ملاقات شنگھائی تعاون تنظیم کے 18ویں سربراہی اجلاس کے موقع پر ہوئی.
اس موقع پر صدر روحانی نے ایران اور روس کے درمیان توانائی کے تبادلے، دفاعی اور ٹرانزٹ کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید بڑھانے پر زور دیا.
انہوں نے علاقائی امن و سلامتی سے متعلق شنگھائی تعاون تنظیم کے کردار کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس تنظیم کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا.
صد روحانی نے کہا کہ ایران، یوریشیائی ریاستوں کے ساتھ تعلقات کی توسیع بالخصوص آزدانہ تجارتی معاہدے کا خیرمقدم کرتا ہے. ٹرانزٹ تعاون سے متعلق شمالی،جنوبی راہداری میں روس کی شمولیت سے مشرقی خطے میں اجتماعی اقتصادی تعاون کو قابل قدر فروغ ملے گا.
انہوں نے ایران جوہری معاہدے میں روس کے اہم کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی جوہری ادارے کی متعدد رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنے وعدوں پر من و عن عمل کیا ہے.
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے سے امریکی کی یکطرفہ اور غیرقانونی علیحدگی کے بعد اس معاہدے کو بچانے کے لئے روس اہم کردار ادا کرسکتا ہے.
انہوں نے کہا کہ ایران اور روس کے درمیان علاقائی مسائل کے حل بالخصوص انتہاپسندی کے خاتمے اور داعش کے دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں مشترکہ تعاون کا سلسلہ جاری رہے گا.
اس ملاقات میں روس کے صدر نے کہا کہ ان کا ملک شمالی جنوبی راہداری میں شمولیت کا خواہاں ہے اور اس کے ساتھ روس، ایران اور یوریشیا کے درمیان آزادانہ تجارتی معاہدے کی شمولیت اس کے مکمل نفاذ کی حمایت کرتا ہے.
ولادیمیر پیوٹن نے جوہری معاہدے سے امریکی علیھدگی کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ روس، جوہری معاہدے کے دیگر فریقین کے ساتھ باہمی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے گا.
9410*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@