امریکہ جب تک رویہ نہ بدلنے اس کیساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے: ایران

تہران، 9 جون، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ جب تک امریکہ، ایران کی تہذیب یافتہ اور باعزت قوم کے ساتھ دھمکی اور پابندیوں کے بجائے عزت اور منطق کی زبان کا استعمنال نہ کرے تو اس کے ساتھ کسی بھی طرح کے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں ہے.

یہ بات ترجمان دفتر خارجہ 'بہرام قاسمی' نے امریکی صدر کے ایران مخالف حالیہ بیانات پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو چاہئے کہ وہ امریکی سیاستدان اور ماہرین سے اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ سے متعلق معلومات حاصل کرے.
قاسمی نے کہا کہ ایران کے بہادر عوام نے ہمیشہ ثابت کردیا ہے کہ وہ دھمکیوں کے سامنے ہرگز اپنی سوچ اور رویے کو متاثر نہیں ہونے دیں گے لہذا جب تک امریکہ،ایرانی قوم کے ساتھ دھمکی اور پابندیوں کے بجائے عزت اور منطق کی زبان کا استعمنال نہ کرے تو اس کے ساتھ کسی بھی طرح کے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی عوام اغیار کے جارحانہ اقدامات کے سامنے دانشورانہ سلوک اور موثر حکمت عملی کے ذریعے مزاحمت کا راستہ اپناتے ہیں.
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے کی خلاف ورزی امریکی حکومت بالخصوص ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عالمی قوانین اور معاہدوں کو نظر انداز کرنے کی علامت ہے.
انہوں نے کہا کہ آج کسی بھی مشرقی یا مغربی ملک امریکہ کے ساتھ تعاون کو امید کی نگاہ سے نہیں دیکھتا.
انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم اور حکومت ہرگز کوئی ملک کے خلاف پابندی، دھمکی، تشدد اور غیرقانونی سلوک کا خیر مقدم نہیں کرکے ایسی ظالمانہ رویوں کی مذمت کر رہی ہے.
قاسمی نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ ایک بار پھر جان لے کہ ایرانی عوام 40 سالوں سے اب تک امریکہ کی دھمکیوں اور پابندیوں کے سامنے سر نہیں جھکائے گا.
انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت ایک اقتصادی دہشت گرد ہے جو دوسرے ممالک اور خود مختار کمپنیوں پر مختلف دھمکیاں اور پابندیاں عائد کر رہی ہے مگر وہ دہشتگردوں سے نمٹنے اور علاقے کی اقتصادی ترقی میں ایرانی عوام کے مستحکم عزم پر کوئی خدشہ نہیں ڈال سکتی ہے.
قاسمی نے کہا کہ ٹرمپ کے لئے بہتر ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے کی سوچ کے بجائے دوسرے ممالک کے خلاف اپنے رویے کو روک کرے.
9393٭274٭٭
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@