پاکستان کیساتھ کثیرالجہتی تعلقات کی توسیع کا خیرمقدم کرتے ہیں: ایرانی صدر

بیجنگ، 9 جون، ارنا - صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ایران، برادر اور دوست ملک پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات کے فروغ کا خیرمقدم کرتا ہے.

یہ بات ڈاکٹر ''حسن روحانی'' نے ہفتہ کے روز چین کے شہر ''چھینگ تاؤ'' میں پاکستان کے صدر مملکت ''ممنون حسین'' کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.
یہ ملاقات شنگھائی تعاون تنظیم کے 18ویں سربراہی اجلاس کے موقع پر ہوئی.
ڈاکٹر روحانی نے ایران اور پاکستان کے تعلقات میں ہونے والی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی صلاحیت سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے باہمی تعلقات کی سطح میں اضافہ بالخصوص اقتصادی شعبے میں مشترکہ تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ باہمی اقتصادی تعاون کے فروغ کے لئے بینکاری شعبے میں تعاون کی بحالی ناگزیر ہے اور اس مقصد کے لئے ایران، پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے لئے بھی آمادہ ہے.
ڈاکٹر روحانی نے شنگھائی تنظیم میں پاکستان کی مستقل رکنیت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران، اس تنظیم میں پاکستان کے موثر کردار کی حمایت کرتا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ ہم پاکستان کو خطے کا ایک اہم ملک سمجھتے ہیں اور ہمیں یہ یقین ہے کہ مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید فروغ ملے گا.
ایرانی صدر نے کہا کہ ہم پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے تیار ہیں اور اس حوالے سے توانائی کے شعبوں میں ہر طرح کے تعاون کے لئے بھی آمادہ ہیں.
اس موقع پر انہوں نے ایران جوہری معاہدے سے متعلق عالمی جوہری توانائی ادارے کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ایران نے اپنے وعدوں پر مکمل طور پر عمل کیا ہے جبکہ امریکہ یکطرفہ اقدام اور غیرقانونی طور پر اس معاہدے سے نکل گیا جو عالمی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے.
ڈاکٹر روحانی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ کے ایسے اقدامات کا از خود نوٹس لے.
ایرانی صدر نے پاکستانی آرمی چیف کے دورہ ایران کا ذکر کرتے ہوئے پاک ایران مشترکہ سرحد کی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا اور مزید کہا کہ ہم پاک ایران دفاعی تعلقات کے فروغ کا خیرمقدم کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک کی سرحد کو امن کی سرحد رہنا چاہئے.
خطے میں قیام امن و سلامتی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ جب تک خطے میں دہشتگرد عناصر سرگرم ہوں تو یہاں خوشحالی کے مقاصد کے حصول ممکن نہیں ہوگا لہذا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تمام علاقائی ممالک کے درمیان اجتماعی تعاون اور ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ ہم خطے کو محفوظ اور مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں. ایران، افغانستان میں قیام امن و استحکام کا خواہاں ہے اور ہم خطے کی سلامتی کے لئے ایران، پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی تعاون کو اہم سمجھتے ہیں.
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اور پاکستان مختلف علاقائی معاملات اور عالم اسلام کے مسائل سے متعلق قریبی مؤقف رکھتے ہیں جو نہایت اہمیت کے حامل ہیں. دونوں ممالک مختلف علاقائی اور عالمی فورم میں ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں بالخصوص او آئی سی تنظیم کے حالیہ سربراہی اجلاس میں فلسطین کی حمایت اور بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کی منتقلی کی مخالفت میں یکساں مؤقف کا اظہار کیا.
اس ملاقات میں صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ایران کے ساتھ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی مشترکات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہماری خواہش کہ ایران جو اس وقت شنگھائی تنظیم کا مبصر رکن ہے، جلد مستقل رکن بن جائے.
صدر ممنون حسن نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہمارا دوست اور برادر ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان ہمیشہ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا.
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان، تمام شعبوں میں ایران کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے لئے پُرعزم ہے.
چابہار بندرگاہ سے متعلق انہوں نے کہا کہ پاکستان، چابہار کے فروغ کو پورے خطے کے لئے فائدہ مند سمجھتا ہے. دوطرفہ تعاون کے ذریعے تجارت کو بڑھانے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لئے رکاوٹوں بالخصوص ٹیرف کے مسائل کو حل کرنا ہوگا.
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان شنگھائی تنظیم میں ایران کی مستقل رکنیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے کیونکہ ہماری نظر میں ایران مثبت کردار ادا کررہا ہے.
پاکستانی صدر مملکت نے کہا کہ ہم ایران جوہری معاہدے کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں جوہری معاہدہ دنیا میں مسائل اور اختلافات کو پُرامن طور پر حل کرنے کے لئے مثالی ہے.
انہوں نے جوہری معاہدے کے تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمے داری ادا کریں.
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس دورے میں صدر مملکت ڈاکٹر روحانی ایک اعلی سطحی سیاسی اور اقتصادی وفد کی قیادت کررہے ہیں جس میں وزیر خارجہ محمد جواد ظریف، وزیر تیل بیژان نامدار زنگنہ، وزیر خزانہ مسعود کرباسیان، مرکزی بینک کے سربراہ ولی اللہ سیف صدارتی مشیر نہاوندیان شامل ہیں.
شنگھائی تنظیم کے سربراہی اجلاس 9 اور 10 جون کو چین کے ساحلی شہر چھینگ تاؤ میں منعقد ہوگا.
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران 2005 سے شنگھائی تعاون تنظیم میں مبصر کی حیثیت سے فعال ادا کر رہا ہے. اس تنظیم کے رکن ممالک نے متفقہ طور پر کہا تھا کہ عالمی قوتوں کے ساتھ ایران کے حتمی جوہری معاہدے کے بعد تہران کو شنگھائی تعاون تنظیم میں دائمی رکنیت دی جائے گی.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@