عالمی قوانین کے مطابق ایران سے تعاون جاری رکھیں گے: چین

بیجنگ، 9 جون، ارنا - چین نے کہا ہے کہ وہ جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ عالمی قوانین کے مطابق مشترکہ اقتصادی تعاون کا سلسلہ جاری رکھے گا.

یہ بات چینی دفترخارجہ کی ترجمان ''ہواچھن اینگ'' نے ہفتہ کے روز ارنا نیوز ایجنسی کے نمائندے کے ساتھ خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہی.
انہوں نے جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بعد ایران سے مغربی کمپینیوں کے ممکنہ انخلاء کے حوالے سے کہا کہ چین نے ہمیشہ دوسرے ممالک کے خلاف یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کی ہے اور اب بھی جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بعد ایران مخالف کسی بھی طرح کی یکطرفہ پابندیوں اور دباؤ کا مخالف ہے.
انہوں نے ایران اور چین کے درمیان قریبی تعلقات بالخصوص اقتصادی تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ دونوں ممالک بین الاقوامی قواین کے مطابق باہمی تعاون کا سلسلہ جاری رکھیں گے.
انہوں نے کہا کہ چین نے متعدد بار جوہری معاہدے سے متعلق ایران کی شفاف اور واضح کارکردگی کی حمایت میں اپنے موقف کا اعلان کرچکا ہے.
یاد رہے کہ چینی وزیر خارجہ نے یکم جون کو بروسلز میں یورپی یونین کی چیف خارجہ پالیسی 'فیڈریکا مغرینی' کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے موقع پر کہا تھا کہ ایران جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے باوجود اس معاہدے کو برقرار رکھنے کے لئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کریں گے.
اس موقع میں انہوں نے مزید کہا تھا کہ ایرانی ایٹمی معاہدے کا حل صرف فریقین کےدرمیان باہمی مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے.
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 مئی کو ایران اور جوہری معاہدے کے خلاف پرانے الزامات کو دہرا کر اس معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا اعلان کردیا تھا.
ٹرمپ نے ایران کے خلاف پرانی ہرزہ سرائیوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کے حکم نامے پر دستخط کریں گے.
ٹرمپ کی علیحدگی کے ردعمل میں یورپی ممالک نے کہا کہ وہ ایران جوہری معاہدے پر قائم رہیں گے.
9410*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@