10 مہینے کے اندر یورینیم افزودگی کے لیول کو 190000 تک لاسکتے ہیں: ایران

تہران، 7 جون، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ ملک کے جوہری پاور پلانٹ نطنز کی جدید بنیادی ڈھانچے کے تعمیر کے ذریعے اب صرف 10 مہینوں میں یورینیم افزودگی کے لیول کو 190000 ایس ڈبلیو یو تک بڑھا سکتا ہے.

یہ بات ایران کے جوہری توانائی ادارے کے سربراہ 'علی اکبر صالحی' نے قومی ٹیلی ویژن کے خصوصی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پلانٹ نطنز کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیرات سے طویل المدت تک یورینیم افزودگی کے لیول کو 190000 ایس ڈبلیو یو تک لایا جاسکتا ہے.

انہوں ںے مزید کہا کہ مگر ہماری اس قابلیت کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ صنعتی استعمال کے لئے اعلی درجے کی سنٹری فیوجز کی پیداوار ہوگی.

صالحی کا کہنا تھا کہ جوہری مذاکرات کے شروع دن سے ہم کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پہلے سے ہی آمادہ تھے کیونکہ ماضی کے تجربات کے تحت اس امکان کو رد نہیں کرسکتے تھے کہ شاید مذاکرات بے نتیجہ ہوں یا امریکہ اپنے وعدوں سے ہٹ جائے.

انہوں نے مزید کہا کہ سنٹری فیوجز کی پیداوار سے معاشی، سیاسی، سیکورٹی اور خودانحصاری لحاظ سے ایران کی سائنسی ترقی نظر آتی ہے.

اعلی ایرانی عہدیدار نے کہا کہ جوہری ٹیکنالوجی کے ذریعے قلیل مدت میں 8 ہزار اور طویل مدت میں 20 ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار جوہری ادارے کی اہم ترجیح ہے.

انہوں نے جوہری معاہدے کی حالیہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یورپ سیاسی کشمکش کا شکار ہے تاہم اگر وہ امریکہ کی باتوں میں آئے تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ یورپی ممالک امریکہ کے غلام ہیں جن کی کوئی مستقل سیاسی پہنچان نہیں.

صالحی نے کہا کہ یورپ کو اس بات کا ادراک ہے کہ ایران توانائی کا مرکز ہے لہذا اگر ایران کو کچھ ہوا تو یورپ کو اس کے منفی نتائج بھگتنا ہوں گے کیونکہ یورپ اپنی سلامتی سے متعلق خدشات رکھتا ہے.

انہوں ںے مزید کہا کہ جیسا کہ قائد اسلامی انقلاب نے گزشتہ دنوں فرمایا ایران نے جوہری معاہدے کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا اور معائنہ کاری کے عمل میں کوئی خلل پیدا نہیں ہوا ہے.

یاد رہے کہ ایرانی سپریم لیڈر حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے گزشتہ دنوں ملک کی اٹامک انرجی آرگنائزیشن کو یورینیم افزودگی کا حکم دے دیا.

انہوں نے فرمایا تھا کہ اس کا لیول 190000 ایس ڈبلیو یو تک ہوگا اور اس عمل میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@