منشور اقوام متحدہ کی پاسداری میں علاقائی مشکلات کا حل ہے: موسویان

میڈرڈ، 4 جون، ارنا - ایران کی جوہری مذاکراتی ٹیم کے سابق رکن کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے منشور پر عمل کرنے سے خطے میں مشکلات پر قابو پایا جاسکتا ہے.

یہ بات سابق ایرانی سفارتکار ڈاکٹر 'سید حسین موسویان' جو امریکی یونیورسٹی پرنسٹن کے پروفیسر اور سنئیر ریسرچ فلو بھی ہیں نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کونسل کے سالانہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس اجلاس کا انعقاد پیرس میں ہوا جس میں سنیئر سعودی سفارتکار عبدالعزیز العویش، شامی حکومت کے مخالف لیڈر بسما کودمانی اور فرانسیسی دفترخارجہ کے سنیئر ڈائریکٹر شریک تھے.

اجلاس کا عنوان ایران سعودی مقابلہ تھا جس میں شرکاء نے بحث و مباحثہ کی اور اس موقع پر سعودی مندوب نے ایران پر کچھ الزامات لگائے اور دعوی کیا کہ ایران نے خلیج فارس تعاون کونسل کی جانب سے تعاون کو بڑھانے کی تجویز کو مسترد کردیا تھا.

اس کے جواب پر سید حسین موسویان نے کہا کہ اگر یورپ ایران اور خلیج فارس کی تعاون کونسل کے ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی چاہتا ہے تو ایران بھی کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرے گا.

انہوں نے مزید کہا کہ کویتی امیر نے خلیج فارس تعاون کونسل کی جانب سے ایرانی صدر کو خط لکھا جس کا ایرانی صدر نے فورا جواب دیا اور اس آمادگی کا اظہار کیا کہ ایران بات چیت کے لئے آمادہ ہے تاہم سعودی عرب نے مذاکرات میں روڑے اٹکایا.

ایرانی پروفیسر نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اور اس کی کابینہ میں شامل مشیر قومی سلامتی اور وزیر خارجہ جیسے انتہاپسند افراد ایران میں نظام کی تبدیلی کے لئے سرتوڑ کوشش کررہے ہیں جس کی سعودی عرب بھرپور حمایت کررہا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کسی ملک پر جارحیت نہیں کی جبکہ صدام نے مغربی طاقتوں بالخصوص سعودی عرب کی پشت پناہی کے ساتھ ایران پر حملہ کیا اور لاکھوں افراد کو شہید کردیا.

موسویان نے کہا کہ ایران، شام میں کیمیائی ھتھیار کے مبینہ استعمال کی شدید مذمت کرتا ہے مگر کیا جب صدام نے ایرانی شہریوں پر کیمیائی ھتھیار استعمال کیا تو سعودی عرب اور عالمی قوتوں نے اس کی مذمت کی.

انہوں نے مزید کہا کہ آج داعش سب سے بڑا خطرہ ہے. سب کو پتہ ہےکہ کون سے ممالک القاعدہ اور داعش کے حمایتی ہیں جبکہ ایران نے داعش کا مقابلہ کیا.

سید حسین موسویان نے شام میں ایران کی موجودگی سے متعلق کہا کہ ایران نے شام سے نکلنے کے لئے کوئی شرط نہیں رکھی بلکہ جب بھی شامی حکومت چاہے تو ایرانی اہلکار وہاں سے نکل جائیں گے.

انہوں نے مزید کہا کہ صہیونی وزیراعظم مسلسل ایران کو دھمکی دے رہا ہے اور ہمیں صفحہ ہستی سے مٹانے کی باتیں کرتا ہے جبکہ میری نظر میں مشکلات کے خاتمے کے لئے منشور اقوام متحدہ پر عمل کرنا ناگزیر ہے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@