شنگھائی اجلاس میں ایرانی صدر کی شرکت امریکی شکست کی علامت ہے: چینی عہدیدار

بیجنگ، 4 جون، ارنا - چین عرب ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اگلے سربراہی اجلاس میں ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی کی شرکت ایران مخالف امریکی پالیسی کی ناکامی ہے.

یہ بات 'چن شن ہوئی' نے ارنا نیوز ایجنسی کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم میں مبصر رکن کی حیثت سے اس میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے .

صدر روحانی کی شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں مصروفیات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر روحانی چین روس اور دیگر رکن ممالک کے سربراہان سے ملاقات میں مختلف امور اور باہمی دلچسپی کے حوالے سے بات چیت کریں گے.

ایران اور چین کی روابط کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا صدر روحانی کی اس اہم اجلاس میں شرکت سے تہران اور بیجنگ کی روابط اور زیادہ مضبوط ہوگا.

ایران جوہری معاہدے سے ٹرمپ کے علیحدگی کے فیصلے کے بارے میں انکا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے گنے چنے بعض اتحادیوں سے ایران کی ترقی اور پیشرفت کو اقتصادی پابندیوں کی صورت میں روکنا چاہتا ہے.

انہوں نے کہا چین روس اور دیگر ممالک خطے میں پایدار امن چاہتے ہیں لیکن امریکہ کے ایران دشمن رویوں سے ان کی کوشش پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں.

انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے اہم اور فیصلہ کن اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چین مشرقی وسطی میں امن چاہتا ہے اور ایران کے کوششوں کی حمایت بھی کرتا ہے.

شنگھائی تعاون تنظیم ایک یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور عسکری تعاون تنظیم ہے جسے چینی علاقے شنگھائی میں 2001 میں قائم کیا گیا. چین، قازقستان، کرغیزستان، روس، تاجکستان، ازبکستان، پاکستان اور بھارت اس تنظیم کے مستقل رکن ہیں.

اسلامی جمہوریہ ایران سمیت افغانستان، منگولیا اور بیلاروس شنگھائی تنظیم میں بطور مبصر رکن ہیں.

1*271**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@