ایران، ٹرمپ پالیسی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے: خاتون امریکی تجزیہ کار

نیو یارک، 4 جون، ارنا - سنیئر خاتون امریکی تجزیہ کار نے کہا ہے کہ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کو کوئی پسند نہیں کرتا اور نہ ہی اس کی پالیسی پائیدار ہے لہذا اسلامی جمہوریہ ایران ٹرمپ عزائم کا موثر انداز میں مقابلہ کرسکتا ہے.

یہ بات اٹلانٹک کونسل تھنک ٹینک کی ریسرچ فیلو 'باربرا ایسلوین' نے ارنا نیوز ایجنسی کے نمائندے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ دنیا میں تنہائی کا شکار ہے جبکہ ٹرمپ صرف صہیونیوں اور سعودیوں کی خواش پر ایران پر دباؤ ڈال رہا ہے مگر وہ کامیاب نہیں ہوگا.

ایران مخالف امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں کا ذکر دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہارت، چین، جنوبی کوریا اور جاپان ایران سے تیل کی خریدار کو جاری رکھا ہوا ہے اور دوسری جانب یورپی یونین سمیت روس اور دوسرے ممالک بھی ایران کے ساتھ اقتصادی روابط رکھنا چاہتے ہیں اور اس کے خلاگ امریکہ کی ایران پالیسی ناکام ہوچکی ہے.

ایران کے خلاف امریکہ کی سازشوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا امریکہ مختلف طریقوں سے چاہتا تھا کہ ایران جوہری معاہدے سے نکل جائے جب دیکھا کہ وہ اس معاملے میں غلط فہمی کا شکار ہے تو خود اس معاہدے کو توڑا.

انہوں نے کہا امریکہ چاہتا ہے کہ دباؤ کے ذریعہ ایران اپنی پالیسیاں تبدیل کرے کیوں کہ خطے کے حوالے سے ایران اور امریکہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں.

آٹلانٹک کونسل کے کونسل کے اعلی ماہر نے کہا کہ ٹرمپ کی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں اب یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان خلیج بڑھتا جارہا ہے جس کی وجہ سے ان کے آپس کے اختلافات کھل کر سامنے آرہے ہیں.

انہوں نے کہا اب ایسا لگتا ہے کہ امریکہ صیہونی حکومت اور خلیجی عرب ممالک ایک بلاک میں جمع ہوئے ہیں جس کا ہدف ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ بڑھانا ہے.

امریکہ کی جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد دنیا کی بڑی کمپنیوں کا ایران سے اقتصادی اور سرمایہ کاری روابط منقطع ہونے کی وجوہات کا بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا دنیا کی بڑی کمپنیاں امریکی مالی نظام سے جوڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے یہ کمپنیاں امریکی حکومت کے قوانین سے ہٹ کر اپنی پالیسیاں مرتب نہیں کرسکتے اور یہ کمپنیاں امریکہ کی انتقامی کاروائیوں سے بھی خوف زدہ ہیں.

1*271**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@