شام میں ایران کی فوجی موجودگی بالکل قانونی ہے: ولید المعلم

تہران، 3 جون، ارنا – شامی وزیر خارجہ نے ناجائز صہیونی ریاست کی جانب سے اس ملک میں ایرانی فوجی اڈوں کے جھوٹے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں ایران کی فوجی موجودگی بالکل قانونی اور ہماری حکومت کی درخواست کی مبنی پر ہے.

یہ بات 'ولید المعلم' نے گزشتہ روز شامی دارالحکومت دمشق میں ایک پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ شام میں امریکہ اور ترکی کی غیرقانونی موجودگی کے برعکس اسلامی جمہوریہ ایران کی موجودگی ہماری حکومت کی درخواست کی مبنی پر ہے.

المعلم نے ناجائز صہیونی ریاست کی جانب سے شام میں ایرانی فوجی اڈوں کی موجودگی کے بے بنیاد دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے شام کے فوجی موقف پر حملے میں ہمارے مسلح افواج شہید ہوگئے .

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہم کہتے ہیں کہ مغرب اور ناجائز صہیونی ریاست کی جانب سے شام میں اسلامی جمہوریہ ایران کی موجودگی کے خلاف میڈیائی منفی پروپیگینڈہ بالکل من گھرٹ اور جھوٹ ہے.

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے بحران کے آغاز سے ایران شام کے ساتھ کھڑا رہا ہے لہذا ہم دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں ایرانی حکومت اور قائد اسلامی انقلاب کی حمایتوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں.

شامی وزیر دفاع نے شام میں ایران کی فوجی طاقت کی عدم موجودگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی فوجی مشیروں ہماری فورسز کے ساتھ سرگرم عمل ہیں.

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں امریکی فوجیوں کی موجودگی غیرقانونی ہے لہذا جلد سے ان کی فورسز کو باہر نکل کر جانا چاہیئے.

انہوں نے بتایا کہ جب امریکہ شام کے علاقے التنف سے اپنی فورسز کو باہر نکل کرے تو ہم ملک کے جنوبی علاقے کے معاہدے پر تبادلہ خیال کریں گے.

9393**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@