نومنتخب ہسپانوی وزیراعظم کی ایران اور جوہری معاہدے پر مثبت نگاہ

میڈرڈ، 2 جون، ارنا - اسپین کے نو منتخب وزیراعظم 'پیدرو سانچیز' جنہیں سابق وزیراعظم 'ماریانو راجوئے' کے خلاف عدم تحریک پاس ہونے کے بعد ملک کا نیا وزیراعظم منتخب کیا گیا، ایران اور جوہری معاہدے کے حوالے سے مثبت سوچ رکھتے ہیں.

تفصیلات کے مطابق، گزشتہ روز ہسپانوی پارلیمنٹ نے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے سابق وزیر اعظم ماریانو راجوئے کو ان کے عہدے سے الگ کر دیا ہے. اسپین کی تاریخ میں راجوئے پہلے وزیر اعظم ہیں، جنہیں تحریک عدم اعتماد میں ناکامی کے باعث اقتدار چھوڑنا پڑا ہے.

دائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والے اعتدال پسند سیاستدان راجوئے کی جگہ سوشلسٹ پارٹی کے سیاستدان پیدرو سانچیز کو نیا وزیر اعظم چن لیا گیا ہے.

وزیراعظم پیدرو سانچیز اور ان کی سوشلسٹ پارٹی ایران جوہری معاہدے کے حمایتی ہیں اور اس کا بطور عالمی معاہدہ احترام کرتے ہیں.

گزشتہ ماہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری معاہدے سے الگ ہونے کے فیصلے کا اعلان کے کچھ ہی گھنٹوں بعد پیدرو سانچیز نے اس یکطرفہ اقدام کے ردعمل میں یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ عقلمندانہ اقدامات کے لئے قدم اٹھائے.

انہوں نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے سے الگ ہوگئے جسے سابق صدر براک اوباما نے ایران کو اسلحہ دوڑ سے دور رکھنے کے لئے کیا تھا. لہذا یورپی ممالک کو چاہئے کہ دنیا میں عدم استحکام کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے موثر اقدامات کریں.

ہسپانوی سوشلسٹ پارٹی نے بھی کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ دنیا میں تناؤ اور مہم جوئی کی سیاست کے فروغ دے رہے ہیں.

سوشلسٹ پارٹی کے سیکریٹری بین الاقوامی امور نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا فیصلہ غلط ہے جس کی وجہ سے غیرضروری تناؤ اور کشیدگی میں اضافہ ہوگا.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@