پاکستان کا ایران گیس منصوبے پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کا فیصلہ

اسلام آباد، 2 جون، ارنا - پاکستان کے پیٹرولیم اور قدرتی وسائل ڈویژن نے ایرانی ہم منصب ادارے کے ساتھ مل کر پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے.

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق، اس کا بنیادی مقصد بین الاقوامی پابندیوں کے تناظر میں ایران کے ساتھ پائپ لائن کے حوالے سے تمام امورکو طے کرنا ہے.

سرکاری ذرائع نے اے پی پی کو بتایا کہ آئندہ مالی سال کے دوران پیٹرولیم و قدرتی وسائل ڈویژن کے حکام ایرانی حکام کے ساتھ مل کر گیس پائپ لائن منصوبہ پر عملدرآمد کا ازسرنو جائزہ لیں گے.

رپورٹ کے مطابق، بات چیت میں تمام تصفیہ طلب امور بشمول گیس کی خریدوفروخت کا معاہدہ (جی ایس پی اے) کو طے کرنے کی کوشش کی جائیں گی.

ذرائع نے مزید کہا کہ پاکستان اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کو تیار ہے. ایران پر بین الاقوامی پابندیوں کے نفاذ کے بعد پاکستان نے مارچ 2014ء میں ایران کو فورس میجیور نوٹس ارسال کیا تھا اور جی ایس پی اے میں ترامیم کی تجاویز دی تھیں جس سے توسیع شدہ نظام الاوقات میں دونوں فریق اپنے اپنے علاقوں میں پائپ لائنوں کا حصہ تعمیر کرنے کے پابند ہوسکتے تھے.

ذرائع کے مطابق مارچ 2016ء میں ایران کے صدر کے دورہ پاکستان کے موقع پر گیس پائپ لائن منصوبہ کی تعمیر کا معاملہ زیربحث آیا تھا اور دونوں ممالک نے اس منصوبہ سے متعلق مسائل حل کرنے پر اتفاق ظاہر کیا تھا.

منصوبہ کے تحت 56 انچ قطر کی حامل گیس پائپ لائن ایران کے علاقے عسلویہ سے شروع ہوکر 1150 کلومیٹر دور پاکستان کے سرحد تک بچھائی جائے گی. پاکستان میں کوسٹل ہائی وے کے ساتھ 781 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھائی جائے گی. پائپ لائن کے ذریعے روزانہ 750 ملین کیوبک فٹ گیس کی ترسیل ممکن ہوگی.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@