جوہری معاہدہ، ایران سے متعلق عالمی برادری کی سوچ میں مثبت تبدیلی آئی

اصفہان، 2 جون، ارنا - نائب ایرانی صدر برائے پارلیمانی امور نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے کے بعد ایران سے متعلق دنیا کی سوچ میں تبدیلی آئی جبکہ اقوام عالم کے سامنے امریکی جارحانہ رویہ مزید بے نقاب ہوگیا.

یہ بات 'حسین علی امیری' نے اصفہان میں صوبائی حکام کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ سپریم لیڈر کی قیادت، حکومتی عزم اور مذاکرات کاروں کی جدوجہد سے اسلامی جمہوریہ ایران اور عالمی طاقتوں درمیان جوہری مذاکرات کامیاب ہوئے جبکہ اس عمل سے جنگ کی خواہش رکھنے والے امریکہ چہرہ بھی مزیئد بے نقاب ہوگیا.
انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے سے ایران کی امن پسندانہ سوچ کو فروغ ملا اور یہ ہماری لئے بڑی کامیابی ہے.
امیری نے کہا کہ جوہری معاہدے سے ٹرمپ کی علیحدگی نے اس بات کا ثابت کردیا کہ دشمنوں کے ایران مخالف پروپیگینڈے کے برعکس ہم نہ صرف جنگ کے خواہاں نہیں بلکہ عالمی پائیدار امن پر قائم ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے عالمی جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کے باوجود ہم ابھی بھی اپنے وعدوں پر قائم ہیں اور جب تک ہمارے قومی مفادات کا تحفظ ہوئے ہماری دیانتداری جاری ہے.
انہوں نے جوہری معاہدے پر دستخط ہونے والے سالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت میں تمام عالمی برادری ایران کے مخالف تھی اور ہمارے ملک کے خلاف بہت ہی سخت پابندیاں عائد ہوگئی ہیں مگر آج امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست کے بغیر دنیا کے تمام ممالک ایران کے ساتھ کھڑے رہے ہیں.
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کا مقصد ایران کے خلاف اقتصادی جنگ کا آغاز کرنا ہے لہذا ایسی صورتحال میں مزاحمتی فرنٹ کے راستے پر قدم اٹھانا اور اندرونی صلاحیتوں پر انحصار کرنا ناگزیر ہے.
9393*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@