ایران مخالف امریکی اتحاد صرف باتوں تک محدود ہے: امریکی تجزیہ کار

تہران، 1 جون، ارنا - خاتون امریکی ماہر امور سیاسیات کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف اسرائیل، سعودی عرب، بحرین اور امارات سے بڑھ کر اتحاد بنانے کا امریکی وعدہ صرف باتوں تک محدود ہے.

یہ بات اٹلانٹک کونسل تھنک ٹینک کی سنئیر امریکی سیاسی امور ماہر 'باربرا ایسلوین' نے ایکسیوس ویب سائیٹ (AXIOS) میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں کہی.

انہوں نے ایران جوہری معاہدے کے خلاف امریکہ کی ناکام کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ میں بر سر اقتدار آنے کے بعد نہ صرف جوہری معاہدے پر عمل نہیں کیا بلکہ ایران کے معاشی مفادات کو روکا اور پابندیوں کے دوبارہ اطلاق سے تہران کو چیلنج کردیا.

انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے سے امریکہ کی یکطرفہ علیحدگی کو دیکھتے ہوئے واشنگٹن کا خیال ہے کہ ایران بھی اس معاہدے سے دستبردار ہوگا جس کے بعد امریکہ، ایران پر کم سے کم دباؤ ڈال سکتا ہے.

باربرا ایسلوین نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے نظریے سے واقفیت رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس ایران کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کرنے کےلئے کوئی خاص حکمت عملی نہیں ہے.

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ مہینے میں ایک بار پھر ایران اور جوہری معاہدے کے خلاف پرانے الزامات کو دہرا کر اس معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا اعلان کردیا تھا.

ٹرمپ نے ایران کے خلاف پرانی ہرزہ سرائیوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کے حکم نامے پر دستخط کریں گے.

ٹرمپ کی علیحدگی کے ردعمل میں یورپی ممالک نے کہا کہ وہ ایران جوہری معاہدے پر قائم رہیں گے.

صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے اعلان کے ردعمل میں کہا کہ آج سے یہ معاہدہ ایران اور اس پر دستخط کرنے والے 5 فریقین کے درمیان رہے گا.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@