شام میں ایرانی فوجی موجود نہیں : شامی صدر

دمشق، 31 مئی، ارنا - شامی صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ شام میں ایران کا کوئی بھی فوجی موجود نہیں ہے.

روس کے روسیاالیوم ٹی وی چینل کے رپورٹر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایران کا کردار فوجی مشیروں کی حد تک محدود ہے اور اگر شام میں ایرانی فوجیوں کے جنگجو موجود ہوتے تو اس حقیقت کو بغیر کوئی ہچکچاہت کے بتا دیتا.

شام میں دہشت گردوں کے خلاف روس کے اہم کردار پر انہوں نے کہا کہ ہم جس طرح روسی فوجوں سے شام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کی درخواست کی اسی طرح ایرانی فوجیوں کو جنگ میں حصہ لینے کی دعوت دے سکتے تھے لیکن ہم نے فوجی مشیروں کی حد تک ایران سے مدد حاصل کرنے میں کافی سمجھا.

شامی علاقوں پر حالیہ صیہونی حکومت کے جارحانہ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حملوں سے یہ پتا چلتا ہے کہ صیہونی حکومت شامی فوجیوں کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی کامیابیوں سے کتنا خوف زدہ ہے.

شام میں ایرانی اڈوں پر صیہونی حکومت کے حملوں کے دعوؤں کے رد عمل میں بشارالاسد کا کہنا تھا کہ اس جارحانہ حملوں میں کوئی بھی ایرانی فوجی نہیں مارے گئے.

انہوں نے شامی علاقوں سے امریکہ کی فوجیوں کے انخلا‏ء پر زور دیتے ہوئے کہا ہم نے عہد کیا ہے کہ شام کے پورے علاقے کو بیرونی جارحوں سے پاک کریں اور اس میں ہماری عزم پختہ ہے.

انہوں نے شامی کردوں کو مرکزی حکومت کے ساتھ بات چیت کرنے کی دعوت دی اور کہا اس میں کوئی دو رائے نہیں اگر امریکہ کی حمایت یافتہ شامی کرد شامی حکومت سے براہ راست سے بات چیت نہیں کریں گے تو ہمارے لئے جنگ کے علاوہ کوئی راہ حل باقی نہیں رہے گا.

دہشت گردوں کی شامی فوجیوں کے ہاتوں مکمل قلع و قمع کا ذکر کرتے ہوئے بشارالاسد نے کہا صیہونی حکومت اس صورت حال سے بہت پریشان ہے اور وہ کوئی نہ کوئی طریقہ سے دہشت گردوں کو تقویت پہنچانا چاہتی ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ شامی حکومت کبھی اپنی عوام کے خلاف زہریلی گیس کے ہتھیار استعمال نہیں کیا ہے اور یہ سب کچھ مغربی ممالک کا ڈرامہ ہے.

ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ان کو حیوان کہنے کے رد عمل میں شامی صدر نے کہا کہ اگر وہ ( امریکی صدر ) یہ بات کہی ہے تو اس سے ان کی اندرونی شخیصت کا پتہ چلتا ہے کہ وہ کتنے اس صفت سے مشابہت رکہتا ہے.

1*271**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@