افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کیلئے چابہار بندرگاہ بہترین ذریعہ

چابہار، 31 مئی، ارنا - ایران کی جنوبی بندرگاہ چابہار آزاد پانیوں تک رسائی اور عالمی سمندری علاقے میں ایک اہم پوزیشن کی وجہ سے افغان مصنوعات کی نقل و حمل کے لئے ایک بہترین ذریعہ ہے.

افغانستان میں تاجر برادری اور کاروباری حلقے چابہار بندرگاہ کو مصنوعات کی ترسیل اور درآمدات کے لئے ایک اہم ذریعہ سمجھتے ہیں.

گزشتہ سالوں کے دوران بالخصوص چابہار میں آزاد تجاری زون کے باقاعدہ آغاز کے بعد یہاں سرگرم 3200 ملکی اور غیرملکی کمپنیوں میں سے 130 سرمایہ کار کمپنیاں افغانستان کی ہیں.

ارنا نیوز ایجنسی کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے ایک افغان تاجر کا کہنا تھا کہ اس وقت افغانستان سے ڈرائی فروٹ، تازہ پھل، دیسی ادویات، جانوروں کی کھال اور قالین کی برآمدات ہوتی ہیں.

'عبداللہ ازبک زہی' نے مزید کہا کہ گزشتہ سال ایران، افغانستان کا دوسرا بڑا تجارتی پارٹنر رہا ہے. چابہار بندرگاہ افغانستان کی اشیاء کی برآمدات اور درآمدات کے لئے ایک اہم ذریعہ اور پُرامن روٹ ہے اور یہ مستقبل میں دوسرے ذرائع کا نعم البدل ہوسکتا ہے.

ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان و بلوچستان کی پورٹس اور سمندر امور اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ افغانستان نے گزشتہ سال ایران کے ذریعے 319 ملین مالیت کی اشیاء درآمد کیا ہے اور اسی سال افغانستان نے ایران کی سرزمین کے ذریعے بھارت کو سب سے زیادہ مصنوعات برآمد کیں.

'بہروز آقائی' نے ارنا نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان نے گزشتہ سال 131 ملین ڈالر کی مالیت اشیاء بھارت کو بھیجیں جبکہ ایران، بھارت کو مصنوعات برآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے جبکہ افغانستان پہلے نمبر پر رہا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ ایران، افغانستان اور بھارت کے درمیان مضبوط تجارتی شراکت داری قائم ہے اور جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی سے ان تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا.

اعلی ایرانی عہدیدار نے کہا کہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے مقابلے میں ایرانی بندرگاہوں میں ڈیوٹی اور پورٹس اخراجات بہت کم ہے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@