دنیا کے اکثر ممالک ایران کے حقوق کی حمایت کرتے ہیں: روحانی

تہران، 31 مئی، ارنا - صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ آج چند ممالک کو چھوڑ کر دنیا کے اکثر ممالک ایرانی عزم کے متعرف ہیں اور ہمارے حقوق کی حمایت کرتے ہیں.

یہ بات ڈاکٹر 'حسن روحانی' نے سنیما اور فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے فن کاروں اور ثقافتی شخصیات کے اعزاز میں افطاری کی تقریب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے مزید کہا کہ رمضان المباک کا مہینہ ہمیں صبر، حوصلہ اور مشکلات کے مقابلے میں ڈٹ جانے کا سبق دیتا ہے بالخصوص امام حسن مجتبی علیہ السلام کے یوم ولادیت سے ہمیں امن و صلح کا سبق ملتا ہے.

صدر مملکت نے کہا کہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ بعض عالمی طاقتیں اور خطی ممالک ایران کے خلاف ہرزہ سرائی کررہے ہیں. اگر کل تک دنیا کے ممالک ہمیں اپنے حقوق حاصل کرنے میں ساتھ نہیں دیتے تھے آج ان میں سے چند ملکوں کو چھوڑ کر اکثریت ممالک ہمارے عزم کے معترف ہیں اور کہتے ہیں کہ ایران حق کی جگہ پر ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے وعدوں پر قائم رہنے والی قوم ہے جبکہ آج ہماری حکومت کے سامنے ایک ایسی حکومت ہے جو اپنی جانب سے دستخط شدہ معاہدوں کی پاسداری نہیں کرتی.

ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ یقینا ایرانی قوم مستقبل کی مشکلات میں سرخرو ہوگی اور ہمیں فتح ملے گی.

ڈاکٹر روحانی نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے گزشتہ دو سالوں میں ملک کے 50 ہزار بڑے اور چھوٹے اقتصادی اور پیداواری مراکز کی معاونت کی ہے. ہمارے کسان جو چار سال پہلے تک سالانہ 40 لاکھ گندم پیدا کرتے تھے آج ایک کروڑ 10 لاکھ ٹن گندم پیدا کررہے ہیں اور حکومت بھی اس گندم کی خریداری کی مکمل ضمانت دیتی ہے.

انہوں نے کہا کہ آج ایران میں سماجی سرمایہ اور ایک دوسرے پر زیادہ بھروسہ کرنے اور وطن عزیز کے مستقبل پر زیادہ امید رکھنے کی ضرورت ہے.

ڈاکٹر روحانی نے مزید کہا کہ ثقافت کی طاقت، فن اور ہم آہنگی کے ذریعے عوام کے لئے فتح اور کامیابی کو ممکن بنایا جاسکتا ہے.

اس موقع پر انہوں نے دہشتگردی کے خلاف عراقی قوم کی مزاحمت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر عراقی قوم داعش کے درندوں کے خلاف نہ کھڑی ہوتی تو آج عراق میں داعش کا راج ہوتا اور وہاں نہ صرف روحانی اور مذہبی مقامات کی کوئی نام و نشانہ نہ رہتی بلکہ عراقی عوام کے تمام اثاثے تباہ ہوتے.

ایرانی صدر نے کہا کہ عراق عوام اپنی مزاحمت کی بدولت خطے میں فاتح ہوگئے اور حالیہ دنوں میں وہاں ایک کامیاب انتخابات بھی ہوئے جس کے نتائج سے عراق کی خودمختاری اور مزاحمت نظر آتی ہے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@