سابق آسٹرین چانسلر کا ایران جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کو چیلنج کرنے کا مطالبہ

تہران، 30 مئی، ارنا - آسٹریا کے سابق چانسلر نے یورپ، روس اور چین پر زور دیا ہے کہ وہ ایران جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور اس عمل کو چیلنج کریں.

یہ بات مشہور آسٹرین سیاستدان اور سابق چانسلر 'ولفگنگ شاسل' نے روسی خبر رساں ادارہ سپتنک نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے یورپی ممالک، روس اور چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عالمی معیار اور قوانین کے دفاع کے لئے امریکہ کے سامنے اٹھ کھڑے ہوں.

انہوں نے مزید کہا کہ ایران جوہری معاہدہ ایک عالمی دستاویز ہے جس کا ہونا ناگزیر تھا تاہم امریکہ نے اس سے نکل کر بین الاقوامی ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے.

ولفگنگ شاسل نے یورپ، روس، چین اور بین الاقوامی تاجر برداری سے مطالبہ کیا کہ وہ کھڑے ہوں اور اقوام متحدہ اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن امریکی فیصلے کو چیلنج کریں.

انہوں ںے مزید کہا کہ امریکہ کی جانب سے ان کمپنیوں اور ملکوں پر پابندی عائد کرنا جو ایران کے ساتھ لین دین کررہے ہیں، عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہے.

سابق آسٹرین چانسلر کا کہنا تھا کہ اگر ہم کھڑے ہوں تو ہمارا اقدام امریکی پالیسی پر اثر انداز ہوگا کیونکہ امریکہ صرف ڈونلڈ ٹرمپ تک محدود نہیں، وہان کانگریس، رائے عامہ، غیرسرکاری تنظیمیں، سول سوسائٹی اور مالیاتی مارکیٹ موجود ہیں.

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 مئی کو ایک بار پھر ایران اور جوہری معاہدے کے خلاف پرانے الزامات کو دہرا کر اس معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا اعلان کردیا تھا.

ٹرمپ نے ایران کے خلاف پرانی ہرزہ سرائیوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کے حکم نامے پر دستخط کریں گے.

ٹرمپ کی علیحدگی کے ردعمل میں یورپی ممالک نے کہا کہ وہ ایران جوہری معاہدے پر قائم رہیں گے.

صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے اعلان کے ردعمل میں کہا کہ آج سے یہ معاہدہ ایران اور اس پر دستخط کرنے والے 5 فریقین کے درمیان رہے گا.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@