ایران کیساتھ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتے ہیں: وزیراعظم آرمینیا

یریوان، 29 مئی، ارنا - آرمینیا کے نومنتخب وزیراعظم نے تہران یریوان تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتے ہیں کیونکہ یہ روابط جغرافیائی تبدیلیوں سے ہٹ کر ہیں.

ان خیالات کا اظہار 43 سالہ 'نکول پشینیاں' نے ارنا نیوز ایجنسی کے نمائندے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے ایران اور آرمینیا کے درمیان سیاسی تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی مراسم کی طرح دوطرفہ اقتصادی تعاون کو بھی مزید مضبوط بنانا ہوگا.

انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں ایران کا دورہ ان کی اہم ترجیح ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی سے جلد ملیں گے.

آرمینیا کے وزیراعظم نے ایران جوہری معاہدے سے ڈونلڈ ٹرمپ کی علیحدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بحران کو مذاکرات کے ذریعے سے حل کیا جائے.

انہوں نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات اتنے مضبوط ہیں کہ علاقائی تبدیلی اور جغرافیائی صورتحال ان پر ہرگز اثرانداز نہیں ہوں گے.

نکول پشینیاں نے کہا کہ ایرانی سیاحوں کی آرمینیا آمد میں اضافہ کے لئے ملک میں شمال جنوبی راہداری کی تعمیر نو نہایت اہم ہے کیونکہ ہمارے نزدیک آرمینیا میں ایرانی سیاحوں کی آمد بہت اہمیت رکھتی ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، آرمینیا کو اپنا ایک قابل بھروسہ سیاسی اور اقتصادی شراکت دار سمجھ سکتا ہے اور ایران کو بھی چاہئے کہ مستقبل میں ایسا ہی مؤقف کا اعلان کرے.

آرمینیا کے وزیراعظم نے کہا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو بڑھانے کے لئے سنجید ہے. دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے جس سے تجارتی اور اقتصادی شعبوں میں تعاون کو بڑھانے میں بھی مدد ملے گی.

یاد رہے کہ نکول پشینیاں ایک صحافی کی حیثیت سے مشہور آرمینیائی اخبار میں کام کرتے تھے جہاں سے انہوں نے سیاست کی دنیا میں قدم رکھا.

رواں مہینے میں آرمینیا کی پارلیمنٹ نے اپوزیشن لیڈر نکول پشینیاں کو وزیر اعظم منتخب کیا تھا. سابقہ حکومت کے خلاف طویل مظاہروں کے بعد ملک میں سیاسی بحران پیدا ہو گیا تھا جسے حل کرنے کے لئے پشینیاں کو لایا گیا.

نکول پشینیاں کو 2009 میں حکومت کے خلاف بغاوت کرنے پر مجرم قرار دیا گیا تھا مگر انہوں نے خفیہ طور پر زندگی گزارنے کا آغاز کیا اور ایک سال گزرنے کے بعد اپنے آپ کو رضامندانہ طور پر قانون کے حوالے کردیا جس کے بعد انھیں 7 سال قید کی سزا ہوئی. تاہم دو سال گزرنے کے بعد آرمینیا کے 20ویں یوم آزادی کی مناسبت سے انھیں معافی دے دی گئی اور وہ 2012 کے الیکشن میں پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوگئے.

پشینیاں نے 2015 میں سول معادے کی حمایت کی بنیاد رکھی اور 2017 میں اپوزیشن کی حیثیت سے ایک اتحاد کی تشکیل دی جس کی وہ آج بھی صدارت کررہے ہیں.

انہوں نے 2018 میں اس وقت کی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کیا اور یریوان تک پیدل سفر کیا اور راستے میں 10 ہزار سے زائد لوگوں نے ان کا ساتھ دیا جس کے بعد میں انہوں نے آرمینیا کے دارالحکومت میں حکومت مخالف بڑے مظاہرے کی سربراہی بھی کی.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@