یورپ، ایران جوہری معاہدے کو بچانے کیلئے اپنی صلاحیت دیکھائے: بیلجیم

تہران، 28 مئی، ارنا - بیلجیم کے وزیر خارجہ نے ایران جوہری معاہدے کو اہم عالمی سمجھوتہ قرار دیتے ہوئے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاہدے کو تحفظ دینے کے لئے اپنی صلاحیت کو بروئے کار لائے.

یہ بات 'ڈیڈئیر رینڈرز' نے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کے لئے بروسلز پہنچے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ایران جوہری معاہدے کے سلسلے کو جاری رکھیں کیونکہ ہم اسے ایک شفاف معاہدہ سمجھتے ہیں جس کی یورپ سمیت عالمی برادری حمایت کررہی ہے.

انہوں نے کہا کہ لہذا یہ بات بہت اہم ہے کہ ہم اس معاہدے کو بچانے کے لئے اپنی صلاحیت اور قابلیت کو دیکھائیں.

بیلجیم کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ یورپی ممالک نہ صرف ایران کے مرکزی بینک اور ایرانی فریق کے ساتھ معاہدے کرنے والے یورپی سرمایہ کار بینکوں کے ساتھ تعاون چاہتے ہیں بلکہ ہماری کوشش ہے کہ یورپ کی چھوٹی کمپنیوں کی ایران میں سرمایہ کاری کے لئے حوصلہ افزائی کریں.

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 مئی کو ایک بار پھر ایران اور جوہری معاہدے کے خلاف پرانے الزامات کو دہرا کر اس معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا اعلان کردیا تھا.

ٹرمپ نے ایران کے خلاف پرانی ہرزہ سرائیوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کے حکم نامے پر دستخط کریں گے.

ٹرمپ کی علیحدگی کے ردعمل میں یورپی ممالک نے کہا کہ وہ ایران جوہری معاہدے پر قائم رہیں گے.

صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے اعلان کے ردعمل میں کہا کہ آج سے یہ معاہدہ ایران اور اس پر دستخط کرنے والے 5 فریقین کے درمیان رہے گا.

انہوں نے ایرانی قوم کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر موجودہ صورتحال میں ہمارے قومی مفادات کو تحفظ نہ ملے تو وہ ایک بار پھر قوم سے خطاب کرتے ہوئے ریاست اور حکومت کے تعمیری فیصلوں سے آگاہ کریں گے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@