جوہری معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی، ایران بھارت تعلقات متاثر نہیں کرسکتی

نئی دہلی، 28 مئی، ارنا - خاتون بھارتی دانشور اور جامعہ اسلامی کی پروفیسر نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے سے امریکہ کے الگ ہونے کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران اور بھارت کے تعلقات پر اب تک کوئی اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں.

یہ بات پروفیسر 'رشمی قاضی' جو جامعہ اسلامی کے امن سنٹر کی سربراہ بھی ہیں، نے پیر کے روز ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے اس وقت دورہ بھارت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور بھارت کے تعلقات قریبی ہین اور ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ فیصلہ سے ان پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت، ایران کی جانب سے پُرامن جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کی حمایت کرتا ہے اور اس کے علاوہ نئی دہلی، ایران اور امریکہ کے درمیان مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتا ہے.

پروفیسر رشمی قاضی نے کہا کہ ظریف کے دورہ بھارت کا مقصد امریکہ کی حالیہ پابندیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنا اور ان پابندیوں سے ایران بھارت تعلقات کو تحفظ فراہم کرنا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت امید کرتا ہے کہ یورپی ممالک جوہری معاہدے کو تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کریں.

خاتون بھارتی دانشور نے بھارت کو افغانستان اور وسطی ایشیائی سے ملانے کے لئے ایران کی چابہار بندرگاہ کی اہم پوزیشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چابہار بندرگاہ ایران اور افغانستان کے لئے اہمیت کی حامل ہے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@