جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی ناقابل قبول ہے: عراقی عھدیدار

بغداد، 27 مئی، ارنا – نائب عراقی سابق وزیر اعظم برائے توانائی امور نے کہا ہے کہ امریکہ کی یکطرفہ اور غیرقانونی علیحدگی بین الاقوامی سطح پر ایک عجیب اور ناقابل قبول اقدام ہے.

یہ بات 'حسین شہرستانی' اتوار کے روز عراقی دارالحکومت میں ارنا کے نمائندے کے ساتھ خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہی.

انہوں نے بتایا کہ جوہری معاہدہ ایک بین الاقوامی سمجھوتہ ہے جس کو عالمی برادری خاص طور پر امریکہ تصدیق کی ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اتفاق رائے کے بعد اس کو منظور کر لیا ہے اسی لیے امریکہ کا نکلنا عجیب بات ہے.

عراقی عھدیدار نے خطے پر جوہری معاہدے سے امریکہ کے نکلنے کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدے پرکسی بھی قسم رکاوٹ پورے مشرق وسطی کے استحکام پر منفی اثر ڈالے گی.

یاد رہے کہ 8 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور جوہری معاہدے کے خلاف پرانے الزامات کو دہرا کر اس معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا اعلان کردیا تھا.

امریکہ کے اس فیصلے کے بعد یورپی یونین کی چیف خارجہ پالیسی 'فیڈریکا مغرینی' نے اعلان کر دیا کہ یورپ، ایران جوہری معاہدے کو بچانے کے لئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرے گا.

ٹرمپ کی علیحدگی کے ردعمل میں یورپی ممالک(برطانیہ، جرمن اور فرانس) نے کہا کہ وہ ایران جوہری معاہدے پر قائم رہیں گے.

صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے اعلان کے ردعمل میں کہا کہ آج سے یہ معاہدہ ایران اور اس پر دستخط کرنے والے 5 فریقین کے درمیان رہے گا.

9410*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@