یورپی یونین کا ایران جوہری معاہدے کے مکمل نفاذ پر زور

ویانا، 26 مئی، ارنا - یورپی یونین نے کہا ہے کہ ایران جوہری معاہدے میں شامل تمام فریقین نیک نیتی کے ساتھ اس معاہدے کے مکمل نفاذ اور موثر عمل درآمد کے سلسلے کو جاری رکھنے کے لئے پُرعزم ہیں.

یہ بات یورپی یونین کی چیف خارجہ پالیسی کی معاون 'ہلگا اشمیت' نے گزشتہ روز ایران اور جوہری معاہدے میں شامل 5 مغربی طاقتیں امریکہ کے بغیر مشترکہ کمیشن کی نشست کے اختتام پر مشترکہ بیان میں کہی.
اس بیان کے مطابق، جوہری معاہدے کے رکن ممالک نے ایران کے خلاف ایٹمی پابندیوں کا خاتمہ اور اس ملک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو معمول بنانے کو جوہری معاہدے کا لازمی حصہ قرار دے دیا.
تفصیلات کے مطابق، ایران اور جوہری معاہدے میں شامل 5 مغربی طاقتیں (چین، فرانس، جرمنی، روس اور برطانیہ) امریکہ کے بغیر مشترکہ کمیشن کی نشست کا جمعہ کے روز ویانا میں ایران کی درخواست کی بنا پر جوہری معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی، اس علیحدگی کا نتائج اور امریکہ کے بغیر دوسرے فریقین کی جانب سے ایران کے مفادات کے تحفظ کی فراہمی کے لئے انعقاد کیا گیا.
سید عباس عراقچی اور یورپی یونین پالیسی چیف کی معاون ہلگا اشمیت نے اس اجلاس کی مشترکہ صدارت کی ہیں.
منعقد ہونے والی نشست میں بین الاقوامی جوہری توانائی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا آمانو بھی شریک تھے ج جنہوں نے اپنی گیارہ رپورٹ میں اسلامی جمہوریہ ایران کی دیانتداری کی تصدیق کی.
مغربی فریقین نے اس معاہدے کے تحفظ کے لئے اپنے مضبوط موقف کا عائدہ کرتے ہوئے اس معاہدے سے امریکی علیحدگی پر بھی افسو‎س کا اظہار کیا.
یہ ممالک جوہری معاہدے کے تحفظ اور ایران کے قومی مفادات کی فراہمی کے خواہاں ہیں اور آئندہ ہفتوں کے دوران باہمی مذاکرات جاری رکھے گا.
انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مسلسل مذاکرات کا انعقاد، مختلف شعبے سمیت تیل، بینکاری، سرمایہ کاری، تجارتی، انشورنس اور مالیاتی شعبوں میں ایران کے مطالبات کی فراہمی کے لئے کوششوں پر زور دیا.
جوہری معاہدہ ایک اہم سفارتی کامیابی ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2231 قراداد کے مطابق منظور ہوگیا ہے.

9393*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@