جدید ٹیکنالوجی سے نیوز ایجنسیوں کو کوئی خطرہ درپیش نہیں: ارنا چیف

سینٹ پیٹرزبرگ، 25 مئی، ارنا - ایران کے قومی خبررساں ادارے (IRNA) کے سربراہ نے کہا ہے کہ دنیا میں نیوز ایجنسیوں کو جدید ٹیکنالوجی سے کوئی خطرہ نہیں بلکہ اگر ہم اسے استفادہ نہ کریں تب یہ ہمارے لئے خطرے کی بات ہوگی.

یہ بات اسلامی جمہوریہ نیوز ایجنسی (ارنا) کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر 'سید ضیاء ہاشمی' نے روسی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں بین الاقوامی میڈیا اور نیوز ایجنسیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی.

اس کانفرنس کا انعقاد سینٹ پیٹرزبرگ کے 22ویں عالمی معاشی اجلاس کے موقع پر کیا گیا جس میں ارنا نیوز ایجنسی کے سربراہ نے اپنے روسی ہم منصب کی دعوت پر شرکت کی.

عالمی میڈیا کی اس کانفرنس کا عنوان نئے چینجلز کے سامنے اخبارات کا مستقبل ہے اور روسی نیوز ایجنسی تاس نے اس کی میزبانی کی.

ارنا نیوز ایجنسی کے سربراہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب دنیا کے نامور پروفیسر اور دانشور ہیبرٹ مارشل میک لوان نے 1962 میں پہلی بار دنیا کے لئے گلوبل ولیج کے نام کا استعمال کیا کسی نے یہ خیال نہیں کیا کہ اس گلوبل ولیج کے فروغ کے لئے میڈیا انتہائی ہم کردار ادا کرے گا جبکہ ہیبرٹ مارشل کو خود اس بات کا علم تھا اسی لئے انہوں نے دو سال بعد اپنے اس معروف جملے کو اُجاگر کیا کہ میڈیا ایک پیغام ہے.

سید ضیاء ہاشمی نے مزید کہا کہ آج انٹرنیٹ سمیت دنیا کے کروڑوں افراد کے فیس بک، ٹویٹر، یو ٹیوب، انسٹاگرام، وائبر اور اسکائپ کے استعمال کررہے ہیں جس نے دنیا کو چھوٹا بنادیا اور گلوبل ولیج اپنے کتابی معنی سے نکل کر علمی معنے میں ابھر کر سامنے آیا.

انہوں نے کہا کہ ایک دور ایسا بھی تھا کہ مغربی میڈیا جو اکثریت انگریزی زبان میں خبریں شائع کرتے ہیں دنیا کے اخبارات و ذرائع ابلاغ پر اپنی راج پھیلایا مگر یہ بات صرف مغربی میڈیا کی حد تک نہیں رہی بلکہ دنیا کے دیگر ممالک نے مغربی میڈیا سے بازی لے گئے حتی کہ یہی ممالک انگریزی اخباروں کے ذریعے ذرائع ابلاغ کے فروغ کے لئے انتہائی اہم کردار ادا کیا.

ارنا چیف نے مزید کہا کہ عالمی رائے عامہ کی توجہ حاصل کرنے کے لئے شام اور عراق میں عوام کی صورتحال اور دہشتگردی کے خلاف جنگ ایک ذریعہ تھا جہاں مستقل میڈیا اور مغرب سے الگ طرز فکر رکھنے والے خبررساں اداروں نے زیادہ کردار ادا کیا.

انہوں نے کہا کہ اگر خودمختار میڈیا اداروں کے کردار نہ ہوتے تو آج انسداد دہشتگردی اور انتہاپسندی کی روک تھام بالخصوص داعش کے یورپی ممالک پر حملوں سے متعلق عالمی میڈیا بالخصوص مغربی میڈیا میں خبریں نہ ہوتیں.

سید ضیاء ھاشمی نے مزید کہا کہ آج سوشل میڈیا دنیا میں چھا گیا ہے جس کی مدد سے عوام تک خبروں کی رسائی مزید آسان ہوئی ہے تاہم بعض لوگ اسے میڈیا اور نیوز ایجنسیز کے لئے خطرہ اور چینلج سمجھتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں خبررساں اداروں کی بقا کو کوئی خطرہ نہیں بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا کو اچھی طرح دیکھیں اور اس کے ساتھ ساتھ چلنے کے لئے موثر پالیسی اپنائیں.

انہوں نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کی آمد سے نیوز ایجنسیز کو کوئی خطرہ نہیں بلکہ اصل خطرہ یہ ہے کہ ہمیں اس ٹیکنالوجی کے استعمال کا پتہ نہ ہو.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@