عالمی جوہری ادارے نے امریکی الزامات کے باوجود ایران کی دیانتداری کی تصدیق کردی

ویانا، 25 مئی، ارنا - بین الاقوامی جوہری توانائی ادارے (IAEA) نے جوہری معاہدے سے متعلق اپنی تازہ ترین رپورٹ میں امریکہ کے من گھڑت الزامات کے باوجود ایک بار پھر ایران کی جوہری سرگرمیوں کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ایٹمی معاہدے کے مطابق قرار دیا ہے.

تفصیلات کے مطابق، 2015 میں ایران جوہری معاہدے کے نفاذ کے بعد یہ 11ویں مرتبہ ہے کہ عالمی جوہری ادارہ ایران کی دیانتداری کی مسلسل تصدیق کررہا ہے.

جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بعد یہ سب سے تازہ رپورٹ ہے جس میں عالمی ادارے نے ایک بار پھر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران کی تمام جوہری سرگرمیاں عالمی معیار اور قوانین کے مطابق ہیں.

بین الاقوامی جوہری توانائی ادارے (IAEA) میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارے کی تازہ ترین رپورٹ میں ایک بار پھر ایران کی جوہری سرگرمیوں کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ایٹمی معاہدے کے مطابق قرار دیا ہے.

'رضا نجفی' نے مزید کہا کہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کے حوالے عالمی توانا‏ئی ادارے کی 11ویں رپورٹ، اس کی گزشتہ رپورٹس کی طرح ہے تاہم حالیہ رپورٹ میں صرف تکنیکی پیشرفت کو اضافہ کیا گیا ہے.

آئی اے ای اے میں ایران کے مستقل نمائندے نے کہا کہ ایران کے بھاری پانی کا ذخیرہ 128.3 ٹن ہے اور اس وقت بھاری پانی پروڈکشن کا پلانٹ تعمیرات اور بحالی کے مرحلے میں ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ اس رپورٹ میں عالمی جوہری معاہدے کے تحت تحقیقی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھنا، یورنیم کی افزودگی کو فروغ دینا اور سنٹری فیوجرز کے اجزاء کی پیداوار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے.

انہوں نے بتایا کہ جامع رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے کہ ایران، عالمی جوہری معاہدے کے نفاذ سے اس پر عین مطابق عمل درآمد کر رہا ہے لہذا یہ ادارہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کے پر امن ہونے کی یقین دہانی کراتا ہے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@