ایران اور پاکستان کی سیکورٹی اور معیشت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں

تہران، 24 مئی، ارنا - نائب ایرانی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کے تعلقات اسٹریٹیجک ہیں جبکہ دونوں کی سیکورٹی اور معیشت بھی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں.

یہ بات نائب وزیر داخلہ برائے سیکورٹی اور انتظامی امور 'حسین ذوالفقاری' نے تہران میں پاکستان کے سفیر 'آصف علی خان درانی' کے ساتھ ایک ملاقات میں کہی.

اس موقع پر انہوں نے ایران اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کے جلد نفاذ پر زور دیا اور کہا کہ خطے کی موجودہ بدامنی کے پس منظر میں ایران اور پاکستان آپس کے قریبی تعاون سے اس صورتحال کو روک سکتے ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان پناہ گزینوں، انسداد دہشتگردی اور منشیات کی روک تھام سے متعلق تعمیری مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور اس حوالے سے مختلف ایرانی وفود اور حکام نے بھی پاکستان کے دورے کئے ہیں.

حسین ذوالفقاری نے کہا کہ پاک ایران قریبی تعلقات کے باوجود مشترکہ معاہدوں کے نفاذ میں پیشرفت نہیں ہوئی. انہوں نے مزید کہا کہ تقریبا افغانستان سے آنے والی 80 فیصد منشیات براستہ پاکستان ایران میں آتی ہیں جبکہ 80 فیصد غیرقانونی افغان پناہ گزین بھی پاکستان کے ذریعے ایران میں داخل ہوتے ہیں.

نائب ایرانی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ انہوں نے گزشتہ سال وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے ہمراہ پاکستان آٗئے تھے اور اس موقع پر پاکستان کے سیکورٹی اور سرحدی حکام کے ساتھ تعمیری مذاکرات ہوئے اور معاہدے بھی طے پاگئے مگر ان فیصلوں کو مکمل طور پر نافذ نہیں کیا گیا.

انہوں نے گزشتہ سال پاک ایران سرحد پر شرپسندوں کے ہاتھوں ایک ایرانی اہلکار کے اغوا ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستانی حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے اہلکار کی بازیابی کے لئے مدد کریں.

حسین ذوالفقاری نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ 10 سال پہلے دہشتگردوں نے ایران کے سرحدی علاقے شمسر سے ایک اہلکار کو اغوا کرکے شہید کردیا تھا اور اسے پاکستان کے اندر دفنایا گیا ہمارا مطالبہ ہے کہ اس اہلکار کے جسد خاکی کو ایران واپس لایا جائے.

پاک ایران تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیکورٹی، انتظامی اور فوجی مسائل پر دونوں ممالک کے تعلقات اچھے ہیں و ہمارا اصل مطالبہ یہ ہے کہ مشترکہ فیصلوں اور معاہدوں پر من و عن عمل کیا جائے.

اس ملاقات میں پاکستان کے سفیر نے کہا کہ ایران اور پاکستان ہمیشہ مشکل دور سے گزر چکے ہیں مگر دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں.

آصف علی خان درانی نے دہشتگردی کے خلاف پاکستانی افواج کی بہادری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی دہشتگرد عناصر کی جانب سے ایرانی سرزمین پر دراندازی کی گئی پاکستانی فورسز نے ان واقعات میں ملوث عناصر کو پکڑ کے انھیں قانون کے حوالے کیا ہے.

انہوں نے نائب ایرانی وزیر داخلہ کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ دونوں ممالک کے تعاون کو اسٹریٹیجک حیثیت حاصل ہے اور پاکستان بھی اس سلسلے کو جاری رکھے گا.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@