ملکی حکام اپنے فرائض پر عمل کرکے امریکہ کو شکست دے سکتے ہیں: آیت اللہ خامنہ ای

تہران، 24 مئی، ارنا - ایرانی سپریم لیڈر نے فرمایا ہے کہ اگر ملکی حکام اپنی ذمے داریاں پوری کریں تو امریکہ کو حتمی شکست ملے گی.

یہ بات قائد اسلامی انقلاب حضرت آیت اللہ العظمی 'سید علی خامنہ ای' نے گزشتہ روز تہران میں صدر مملکت، پارلیمنٹ، عدلیہ کے سربراہان اور اعلی حکام کے ساتھ ایک ملاقات میں خطاب کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے فرمایا کہ امریکہ کی اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام اور ایرانی قوم سے دشمنی گہری ہے اور اس کا سلسلہ جاری رہے گا.

انہوں نے مزید فرمایا کہ اسلامی انقلاب کی فتح کے شروع دن سے آج تک امریکہ کا جابر نظام ایرانی عوام کا اصل دشمن ہے اور اس نے وطن عزیز ایران کے خلاف سیاسی، معاشی، سیکورٹی سمیت تمام ہتکنڈوں کا استعمال کیا مگر ہمیشہ کی طرح اسے ناکامی کے سوا کچھ نہیں ملا.

قائد انقلاب نے فرمایا کہ موجودہ امریکی صدر کا انجام بھی اپنے سابق ہم منصبوں ریگن اور جارج بوش سے زیادہ اچھا نہیں ہوگا اور وہ بھی ان کی طرح تاریخ میں گم ہوجائے گا.

ایران جوہری معاہدے سے متعلق امریکہ کی مسلسل خلاف ورزیوں کا ذکر کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای نے مزید فرمایا کہ جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بعد یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس ملک کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات یا معاہدہ کرنا سراسر بے فائدہ ہوگا.

انہوں ںے جوہری مذاکرات کے دوران فرانسیسی وزیر خارجہ کے مکروہ اقدامات بالخصوص یلو کیک کی خریداری کے حوالے سے اور برطانیہ کے روڑے اٹکانے کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ چند مثالیں ہیں جس سے یورپ کا امریکہ کا ساتھ دینا واضح نظر آتا ہے.

انہوں نے فرمایا کہ جوہری معاہدے کا اصل مقصد ایران مخالف پابندیوں کا اٹھانا تھا مگر ان پابندیوں میں سے اکثر نہیں اٹھائی گئیں.

آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی خلاف ورزی پر خاموشی برتنے پر تین یورپی ملک فرانس، برطانیہ اور جرمنی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور فرمایا کہ اگر یہ ممالک امریکہ سے احتجاج کرتے تو آج یہ نوبت نہ آتی لہذا یورپی ممالک کو چاہئے کہ اپنی غلطیوں کا ازالہ کریں.

سپریم لیڈر نے تین یورپی ممالک پر زور دیا کہ انہیں چاہئے کہ جوہری معاہدے کا تسلسل جاری رکھنے سے متعلق ایران کو اعتماد میں لیں اور اس حوالے سے ہمیں ضمانت دیں کہ ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں ایران کے کردار پر بات نہیں ہوگی.

انہوں نے مزید فرمایا کہ یورپ کو چاہئے کہ ایران مخالف امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں کا کھل کر مقابلہ کرے تاہم سب جان لیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے دفاع اور سرزمین کی حفاظت پر ایک لمحہ بھی سمجھوتہ نہیں کرے گا.

آیت اللہ خامنہ ای نے اس بات پر انتباہ کیا کہ اگر یورپی ممالک نے ہمارے مطالبات کو نظرانداز کیا اور اس پر عمل کرنے میں تاخیر کی تو ایران بھی اپنی معطل شدہ جوہری سرگرمیوں کا پھر سے آغاز کرے گا.

انہوں نے جوہری توانائی ادارے کے حکام پر زور دیا کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار رہیں. اس وقت ایران میں یورونیوم کی افزودگی 20 فیصد کی سطح پر ہے تاہم اگر ہمیں جوہری معاہدے سے کوئی فائدہ نہ ہو تو تمام جوہری سرگرمیوں کو بحال کیا جائے گا.

آیت اللہ خامنہ ای نے مزید فرمایا کہ امریکہ کی ایران مخالف سازشوں میں اضافہ ہورہا ہے لہذا ان سے نمٹنے کے لئے ایران میں ایک خصوصی سیل قائم ہونا چاہئے اور اس کے لئے دفترخارجہ کے حکام کو بھی کردار ادا کرنا چاہئے.

انہوں ںے فرمایا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق امریکہ کا سیاہ کارنامہ ہے جس میں مختلف امریکی جیلوں میں قیدیوں سے غیرانسانی سلوک، امریکہ میں سیاہ فام شہریوں پر پولیس کے بدترین تشدد، داعش کی تشکیل اور حمایت میں امریکہ کا براہ راست کردار، فلسطینیوں کے قتل عام میں ناجائز صہیونی ریاست کی حمایت اور یمن پر جارحیت اور بحرین میں عوام کے خلاف کریک ڈاون کی امریکی حمایت شامل ہیں.

قائد انقلاب نے اس بات پر زور دیا کہ اگر اقوام متحدہ حقیقی معنوں میں ایک عالمی ادارہ ہے اور جابر امریکی حکومت کے دباو میں نہیں تو اسے چاہئے کہ امریکہ کے ان اقدامات کا از خود نوٹس لے اور اپنی ماضی کی کوتاہیوں کا ازالہ کرے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@